نیب قوانین میں ترامیم کو پارلیمان میں لے جائیں گے، شہزاد اکبر

نیب قوانین میں ترامیم کو پارلیمان میں لے جائیں گے، شہزاد اکبر

فوٹو: فائل

اسلام آباد: وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے قوانین میں ترامیم کے حوالے سے کہا ہے کہ اس کی بدولت ٹیکس کے تمام معاملات نیب نہیں بلکہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) دیکھے گا۔

محکمہ اینٹی کرپشن نے 129 ارب روپے کی زمین واگزار کرائی، شہزاد اکبر

ہم نیوز کے مطابق وہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ ترامیم کے تحت جس شخص کا پبلک آفس ہولڈر سے کوئی واسطہ نہیں ہوگا تو اس پر نیب قوانین کا اطلاق بھی نہیں ہوگا جب کہ لیوی، امپورٹ اور ٹیکس کیسز کو نیب نہیں دیکھے گا۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ طریقہ کار کا نقص نیب کا دائرہ کار نہیں بنتا ہے اس میں محکمانہ کارروائی بنتی ہے جب کہ نیب کا کام کرپشن کی روک تھام ہے اداروں کی اصلاح کرنا نہیں ہے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی کوئی بھی ٹیکس کیس ہو، وہ نیب کے دائرہ کار سے باہر ہوگا مگر ٹیکس کیس ایف بی آر دیکھے گا اور مجرم پر فوجداری کی سزا ہوگی۔

ہم نیوز کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ میں چھٹیوں پرتھا لیکن نیب کے قوانین میں ہونے والی ترامیم سے متعلق پیدا ہونے والے کنفیوژن کو دور کرنے کرنے کے لیے آیا ہوں۔

انہوں نے واضح کیا کہ نیب قوانین میں ترامیم کو پارلیمان کے پاس جانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس سالوں میں نیب قوانین میں تبدیلی کی خواہشات بدنیتی پرمبنی تھیں جن پر عمل درآمد نہیں ہوا۔

ملک ریاض سے ملنے والی رقم عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کریں گے، شہزاد اکبر

شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس کے دوران مخالفین پرکڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ نیب قوانین میں ترامیم کے ڈرافٹ کو دیکھے بنا تنقید کی جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشرے میں کرپشن کا ناسور پھیلا ہوا ہے جس کی درستگی کے لیے سخت قوانین کی ضرورت ہے۔

ہم نیوز کے مطابق انہوں نے کہا کہ صرف فیصلہ کرنے کی وجہ سے کسی کا کیس نیب میں آتا تھا تو وہ زیادتی تھی۔ انہوں نے ملک میں احتساب قانون کے مزید سخت ہونے کا دعویٰ کیا۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب نے ایک سوال کے جواب میں واضح کیا کہ نیب ترامیمی قوانین پاس ہونے کے بعد کسی ٹیکس چور کو رعایت نہیں ملے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے کہ نیب ترمیمی قانون پاس ہونے کے بعد کسی ٹیکس چور کو رعایت مل جائے گی کیونکہ وہ معاملہ متعلقہ ادارہ دیکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ چار صفحات پر مشتمل ترمیمی آرڈی ننس کا سیکشن چار یہ بتائے گا کہ قانون کا اطلاق کہاں ہوگا؟

ہم نیوز کے مطابق وزیراعظم کے معاون خصوصی نے کہا کہ نیب ترمیمی قانون سے کسی کوموجودہ حکومت سے ذاتی فائدہ نہیں مل سکتا ہے اس لیے احتساب کا عمل ختم ہونے کا تاثر یکسر اور  بالکل غلط ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکسیشنز کے تمام معاملات ایف بی آر دیکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کو مضبوط بنانے کے لیے کام کررہے ہیں۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ نیب کے بعد ایف آئی اے کے لیے بھی ایسے ہی عمل کا آغاز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب قانون کا دو طرح کے افراد اور ٹرانزیکشن پر اطلاق نہیں ہوگا جب کہ جہاں لفظ کرپشن آئے گا وہ اب بھی نیب کی دسترس میں ہی ہوگا۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شہزاد اکبر نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی صدر میاں شہباز شریف نجانے کب لندن سے واپس آئیں گے؟ اور مجھے عدالت لے کر جائیں گے۔

ہم نیوز کے مطابق انہوں نے کہا کہ اثاثوں کی مالیت کا تعین ڈی سی ریٹ پرہوگا یا ایف بی آر کرے گا اور تمام بڑے شہروں میں پراپرٹیز کے ایف بی آر ریٹس تقریباً مارکیٹ ریٹ کے برابر ہیں۔

نواز، شہباز اور زرداری کا طریقہ واردات ایک ہے، شہزاد اکبر

قومی اسملبی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے زلزلہ متاثرین کے فنڈز میں مبینہ کرپشن سے متعلق برطانوی اخبار ڈیلی میل کی خبر پر اخبار، وزیراعظم عمران خان اور معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز