لاہور ہائی کورٹ کی نیب آرڈیننس کالعدم قرار دینے کی درخواست پر فوری سماعت سے معذرت

لاہور ہائی کورٹ کی نیب قوانین میں ترمیم کالعدم قرار دینے کی درخواست پر فوری سماعت سے معذرت

لاہور: ہائی کورٹ آفس نے قومی احتساب بیورو (نیب) قوانین میں ترمیم سے متعلق صدارتی آرڈیننس کو بدنیتی پر مبنی اور کالعدم قرار دیے جانے کی درخواست پر فوری سماعت سے معذرت کر لی ہے۔

عدالت عالیہ کے دفتر کے مطابق موسم سرما کی چھٹیوں کے بعد درخواست پر سماعت ہو سکے گی۔

صدارتی آرڈیننس کو بدنیتی پر مبنی اور کالعدم قرار دیے جانے کی درخواست انسانی حقوق کے رہنما محمد شفیق کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ترمیمی آرڈیننس آئین اور قانون کے منافی ہے، اس کے ذریعے کرپشن کے مقدمات میں نیب کی تفتیش کا اختیار ختم کیا گیا ہے۔

درخواست گزار کا موقف ہے کہ ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے کرپشن کو فروغ ملے گا اور وائٹ کالر مجرموں کو فائدہ ہوگا۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ نیب قوانین میں ترمیم سے متعلق صدارتی آرڈیننس کو بدنیتی پر مبنی اور کالعدم قرار دیا جائے۔

قبل ازیں حکومت کی جانب سے پاس کیے گئے  نیب ترمیمی آرڈیننس 2019 کو سپریم کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔

سماجی کارکن محمود اختر نقوی نے کراچی رجسٹری میں درخواست دائر کی جس میں وفاق، چیئرمین نیب، وزارت قانون، سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری خارجہ اور سیکرٹری دفاع کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست نے مؤقف اپنایا کہ نیب ترمیمی آرڈیننس آئین کے آرٹیکل 25 کے خلاف اور وزرا اور سرکاری افسران کی کرپشن کو تحفظ دینے کی کوشش ہے۔

سپریم کورٹ کی کراچی رجسٹری میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 25 کے مطابق تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں اور مذکورہ ترمیمی آرڈیننس بدنیتی پر مبنی ہے۔

عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ نیب ترمیمی آرڈیننس 2019 کو فوری معطل کرنے کا حکم دیا جائے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز