پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن کیساتھ فیس بک کا امتیازی سلوک

پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن کیساتھ فیس بک کا امتیازی سلوک

اسلام آباد: سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک نے کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم کا تذکرہ کرنے پر پاکستان براڈ کاسٹکنگ کارپوریشن (پی بی سی) کی کے خبرنامے کی اسٹریمنگ بند کر دی۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق فیس بک کی جانب سے خبرنامہ بند کیے جانے پر عارضی انتظامات کرکے یوٹیوب پر اسٹریمنگ چلا دی گئی۔

ریڈیو پاکستان نے اپنی رپورٹ میں مئی کے اسکرین شاٹس بھی لگائے ہیں جن میں فیس بک انتظامیہ کی جانب سے انہیں انتباہ جاری کیا تھا۔ جس کے مطابق پی بی اے نے کمپنی کے اصولوں ضوابط کی خلاف ورزی جو انفرادی یا اداروں کے لیے خطرناک ہوسکتے ہیں۔

یہ انتباہ خاص طور پر ان خبروں پہ جاری کیا گیا تھا جو کہ حزب المجاہدین کے لیڈر برہان وانی کی برسی پر چلائی گئی تھیں۔

اس کے علاوہ ذاکر موسیٰ کی شہادت کے بعد نافذ کیے گئے کرفیو کی خبروں پر ہی پی بی سی کو اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

پیر کو ایک پریس کانفرنس کے دوران وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو خود انحصاری یقینی بنانے کے لیے بین الالقوامی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے آگے بڑھنا ہو گا۔

ان کا کشمیر کے متعلق کہنا تھا کہ جب بھی ہم نے بھارت کی جانب سے کی جانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھائی تو اکاؤنٹس معطل کر دیے گئے۔

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات کا کہنا تھا کہ ہم پہلے بھی جارحیت کے خلاف آوز اٹھاتے رہے ہیں اور آئندہ بھی اٹھاتے رہیں گے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز