وزیر اعظم کے مشیران اور معاونین خصوصی کی تقرریاں سپریم کورٹ میں چیلنج

وزیر اعظم کے مشیران اور معاونین خصوصی کی تقرریاں سپریم کورٹ میں چیلنج

فائل فوٹو

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان مشیران اور معاونین خصوصی کی تقرریوں کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی گئی ہے۔

آئینی درخواست سماجی کارکن محمود اختر نقوی نے کراچی رجسٹری میں دائر کی جس میں مشیر خزانہ حفیظ شیخ، عبدالرزاق داؤد۔ شہزاد اکبر، فردوس عاشق اعوان، نعیم الحق،عثمان ڈار، ندیم افضل چن، زلفی بخاری، ثانیہ نشتر، افتخار درانی، معید یوسف اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست نے استدعا کی ہے کہ تمام مشیران اور معاونین حصوصی کی صادق اور اہل ہونے کی تصدیق کی جائے۔ معاون اور مشیران کو قومی خزانے سے تنخواہ اور مراعات حاصل کرنے کا حق نہیں۔ مشیران اور معاون خصوصی کو ایک وزیر کا سٹیٹس حاصل ہے جو خلاف قانون ہے۔

سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ تمام مشیران اور معاون خصوصی کو عہدوں سے ہٹایا جائے۔ مشیران اور تمام معاون خصوصی کو فی الفور کام سے روکا جائے۔

درخواست گزار نے استدعا کی کہ تمام مدعا علیہان کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت کاروائی کی جائے اور معاون خصوصی برائے قومی سلامتی معید یوسف کی تقرری پر خصوصی طور پر جے آئی ٹی تشکیل دی جائے۔

تمام معاون خصوصی اور مشیران کا نام ای سی ایل میں ڈالنے، آئندہ سرکاری اور نیم سرکاری عہدے سے روکنے اور درخواست دائر ہونے تک اصل کی جانے والی مراعات، گاڑیاں اور دفاتر واپس لینے کی استدعا بھی کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ اسی نوعیت کی ایک درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی دائر ہے جس میں 15 معاونین خصوصی کی تعیناتیاں چیلنج کی گئی ہیں۔

چیئرمین ینگ جرنلسٹ ایسوسی ایشن نے مؤقف اپنایا کہ رولز آف بزنس 1973 کے رول 4(6) کے مطابق وزیراعظم کے پاس معان خصوصی تعینات کرنے کا اختیار ہے لیکن معاونین خصوصی کو فیڈرل منسٹر یا اسٹیٹ منسٹر کا درجہ خلاف قانون دیا گیا ہے۔

عدالت سے یہ استدعا بھی کی گئی ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور کیبنٹ ڈویژن کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔

 

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز