زینب الرٹ بل منظور، اطلاق صرف اسلام آباد میں ہوگا

سینیٹ نے زینب الرٹ بل کثرت رائے سے منظور کرلیا

فائل فوٹو

اسلام آباد: قصور میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی بچی زینب کی دوسری برسی پر قومی اسمبلی نے بچوں کے تحفظ کے لیے اہم ’زینب الرٹ بل‘ متفقہ طور پر منظورکرلیا ہے۔

قومی اسمبلی نے بچوں سے زیادتی پرعمر قید یا کم سے کم 10 سال اور زیادہ سے زیادہ 14 سال قید بامشقت کی سزا کی منظوری دی ہے۔

زینب الرٹ بل کے تحت گمشدہ بچوں سے متعلق ڈیٹا بیس تیار کیا جائے گا اور جنسی زیادتی کے مرتکب افراد کو10 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔

گمشدہ بچوں سے متعلق ڈیٹا بیس تیار کیا جائے گا۔ اور ہیلپ لائن1099 قائم کی جائے گی جس پر بچے کی گمشدگی، اغوا اور زیادتی کی اطلاع فوری طور پر ٹی وی چینلز، سوشل میڈیا، ہوائی و ریلوے اڈوں اور مواصلاتی کمپنیوں کے ذریعے دی جائے گی۔

وفاقی وزیرانسانی حقوق شیریں مزاری نے زینب الرٹ جوابی ردعمل اوربازیابی بل 2019 پیش کیا جس کی ایوان نے شق وار منظوری دے دی۔

بل کے مطابق بچوں سے متعلق جرائم کا فیصلہ 3 ماہ کے اندر کرنا ہوگا۔ جرم ثابت ہونے پرکم سے کم 10 سال اور زیادہ سے زیادہ 14 سال قید سزا دی جاسکے گی۔ علاوہ ازیں10 لاکھ روپے جرمانہ بھی ہوگا۔

بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو سرکاری افسر2 گھنٹے میں بچے کے خلاف جرائم پر ردعمل نہیں دے گااسے بھی سزا دی جاسکے گی۔  18 سال سے کم عمر بچوں کااغوا، قتل، زیادتی، ورغلانے اور گمشدگی کی ہنگامی اطلاع کے لئے زینب الرٹ جوابی ردعمل و بازیابی ایجنسی قائم کی جائے گی۔

حکومتی رکن نے مجرموں کوچوک میں پھانسی دینے کا مطالبہ کیا جس پر شیریں مزاری نے کہا کہ اس کیلئے قانون میں مزید ترمیم کی ضرورت ہے۔

قومی اسمبلی میں جو بل پیش کیا گیا تھا اس میں بچوں سے زیادتی اورقتل پرسزائے موت، مجرم کوایک سے 2 کروڑ روپے جرمانے کی سزا تجویز کی گئی تھی۔

قائمہ کمیٹی انسانی حقوق نے سزائے موت کو ختم کرکے عمر قید اورایک سے 2 کروڑ روپے جرمانہ کم کرکے 10 لاکھ روپے کردیا۔

علاوہ ازیں حکومت نے قومی احتساب بیورو(نیب) اور بے نامی ترسیلات زر(ٹرانزیکشنز) سمیت 6 آرڈیننس اپوزیشن کی مخالفت پر واپس بھی لیے۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں وزیر مملکت علی محمد خان نے آرڈیننس واپس لینے کی تحریک پیش کی۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے ساتھ مشاورت اور اتفاق رائے کے بعد آرڈیننس واپس لیے ہیں۔ ایم ایم اے اور ایم کیو ایم کو چھ آرزڈیننسز کی واپسی اور بلز کی شکل میں منظوری پر اعتراض تھا۔

جماعت اسلامی کے رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی نے اعتراض اٹھایا کہ مذاکراتی عمل میں انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ قومی اسمبلی نے آرڈیننس واپس لینے کی تحریک منظور کی۔

واپس لیے گئے آرڈیننس میں پروانہ انصرام تولیت و وراثت بل 2019 آرڈیننس، قانونی معاونت و انصاف اتھارٹی آرڈیننس، نفاذ حقوق جائیداد برائے خواتین آرڈیننس، اعلیٰ عدلیہ عدالتی لباس  اور انداز مخاطب کا آرڈیننس، بے نامی کاروباری معاملات امتناع کا آرڈیننس اور قومی احتساب ترمیمی آرڈیننس 2019 شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز