اسلام آباد ایئر پورٹ کسی بھی دن گر جائے گا، چیف جسٹس

کورونا: اسلام آباد ایئرپورٹ پہ متعین سرکاری اہلکار پمز اسپتال منتقل

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ایئرپورٹ پر پروازوں کی تاخیر اور مسافرں کو درپیش مسائل سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ اسلام آباد ایئر پورٹ کی  تعمیر جس طرح ہوئی ہے، کسی بھی دن گر جائے گا۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں کیس کی سماعت کے دوران انہوں نے ڈائریکٹر سول ایوی ایشن کی عدم موجودگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسسٹنٹ ڈائریکٹر سول ایوی ایشن سے مسئلے کے حل سے متعلق استفسار کیا اور ادارے کے ڈپٹی ڈائریکٹر کو فوری پیش ہونے کا حکم بھی دیا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پروازیں تاخیر کا شکار ہوتی ہیں اور مسافروں کے ساتھ کیا ہوتا ہے اتنی بات آپ کو سمجھ نہیں آرہی آپ کیا ڈائریکٹر بنیں گے، اگر کوئی فلائٹ تاخیر کا شکار ہوتی ہے تو مسافروں کو ٹہرانے کے لیے کوئی جگہ نہیں۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ چرس اور کرنسی کی ریکوری ہوتی ہے تاہم اس کی کوئی ویڈیو ایئرپورٹس پر نہیں بنتی، ہوائی اڈون پر پر کرنسی دبا کر اسمگل ہورہی ہے۔

عدالتی طلبی پر سول ایوی ایشن کے ایڈیشنل ڈائیریکٹر جنرل تنویر اشرف بھٹی عدالت پہنچے۔ عدالت نے ان سے پروازوں میں تاخیر کے باعث مسافروں کو سہولت دینے کے متعلق رپورٹ طلب کرلی۔ بعدازاں کیس کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کردی گئی۔

گزشتہ سال جنوری میں ذرائع نے ہم نیوز کو بتایا تھا کہ انتظامیہ کی غفلت اور لاپرواہی کے سبب 105 ارب روپے کی خطیر رقم سے تیار ہونے والا قومی منصوبہ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا اور آئے روز مسافروں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ الیکٹرانک سیڑھیاں خراب ہونا، واش رومز میں گندگی اور دیگر مسائل ایئرپورٹ پر معمول بن چکے ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز