پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینے والے ارکان کا سراغ نہیں لگایا جاسکا

سینیٹ کی خالی نشست پر پولنگ کا عمل جاری

اسلام آباد: چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینے والے ارکان پارلیمان کا سراغ نہیں لگایا جاسکا ہے۔

چار ماہ بعد بھی  استعفوں پر فیصلہ ہوا نہ ہی فیکٹ فائینڈنگ کمیٹیوں کی رپورٹ منظرعام پر آ سکی ہے۔ سیاسی جماعتوں نے پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ ڈالنے والے 14  ارکان  پارلیمنٹ کے معاملے پر چپ ساندھ لی ہے۔

چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک میں حزب اختلاف کے 14 ارکان نے پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کی تھی۔

تحریک کی ناکامی کے بعد پیپلز پارٹی کے تمام ارکان نے استعفی بھی پارٹی قیادت کو جمع کرائے تھے۔ اپوزیشن جماعتوں نے ارکان کا سراغ لگانے کے لئے فیکٹ فائینڈنگ کمیٹیز بھی بنائیں تھیں۔

سینیٹر نیر بخاری کے مطابق پیپلز پارٹی کی فیکٹ فائینڈنگ کمیٹی کے متعدد اجلاس ہوئے۔ کمیٹی نے تمام ارکان سینیٹ کو بلاکر انٹرویو بھی کیے۔

نیر بخاری کا کہنا ہے کہ فیکٹ فائینڈنگ کمیٹی نے اپنا کام مکمل کر کے رپورٹ تیار کرلی ہے۔ رپورٹ کمیٹی کے کنوینر یوسف رضا گیلانی کے پاس ہے۔

انہوں نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی نے رپورٹ پارٹی قیادت کو جمع کرانی تھی۔

سینیٹ میں اپوزیشن رہنما راجہ ظفر الحق نے بتایا کہ ارکان کی تحقیقات کے معاملے میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ رانا مقبول کی سربراہی میں کمیٹی بنائی تھی۔ رانا مقبول کو رپورٹ بنانے کا نہیں بلکہ زبانی طور پر آگاہ کرنے کا کہا گیا تھا۔

راجہ ظفرالحق کا کہنا تھا کہ رانا مقبول نے معاملے سے متعلق شہباز شریف کو آگاہ کردیا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ ن معاملے کی تحقیقات کے لیے مشترکہ کمیٹی بنانا چاہتی تھی۔ پیپلز پارٹی کے اعتراض کے بعد جماعتوں نے الگ الگ کمیٹیاں قائم کی تھیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز