ایران مظاہرین کے خلاف کارروائی سے باز رہے، ٹرمپ

امریکی صدر لوگوں کو دیے گئے مشورے سے مکر گئے

فوٹو: فائل

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈر ٹرمپ نے ایران کی جانب سے ہوائی جہاز غلطی سے گرائے جانے کے اعتراف کے بعد خبردار کیا کہ ان کا ملک ایران میں جاری مظاہروں پر گہری نگاہ رکھے ہوئے ہیں اور وہ مظاہرین کے خلاف کسی کارروائی سے باز رہے۔

اس اعتراف کے بعد ایرانی قیادت پر مظاہرین اور اخباروں کی جانب سے دباؤ ڈالا جارہا ہے جبکہ قصورواروں کے استعفوں کا بھی مطالبہ کیا جارہا ہے۔

اس سے قبل بھی ایران میں مظاہرین کے خلاف پولیس نے کارروائی کی جس میں درجنوں ہلاکتیں رپورٹ کی گئیں۔

ایک معروف ایرانی اخبار کی اتوار کے روز سرخی تھی کہ ’معافی مانگیں اور استعفیٰ دیں۔‘

ایران یوکرینی جہاز کو غیر ارادی طور پر گرائے جانے کا اعتراف کرچکا ہے جس میں 176 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

یہ واقعہ ایران کی جانب سے عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کے کچھ دیر بعد رونما ہوا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انگریزی اور فارسی میں ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ وہ ایرانی مظاہرین کے ساتھ کھڑے ہیں۔

ٹرمپ نے انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ جب سے میں صدر بنا ہوں ہمیشہ آپ کے ساتھ کھڑا رہا ہوں اور میری انظامیہ بھی آپ کی حمایت جاری رکھے گی،

انہوں نے کہا کہ ہم ایران میں جاری احتجاج کو گہری نگاہ سے دیکھ رہے ہیں اور آپ کی جرت سے حوصلہ افزائی حاصل کررہے ہیں۔

اس سے قبل امریکی ٹی وی چینل سی این این کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ عراق میں فوجی اڈے پر ایرانی حملے کے دوران امریکی تنصیبات کو خاطر خواہ نقصان پہنچا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ الاسد فوجی اڈے میں موجود امریکی فوجیوں کو ایرانی حملے کا تقریباً ڈھائی گھنٹے قبل علم تھا جس سے بچنے کے لیے انہوں نے بنکرز میں پناہ لی۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ حملے کی معلومات ملنے کے کچھ دیر بعد ہی زیادہ تر فوجی یا تو فوجی اڈے سے روانہ ہوگئے یا پھر وہیں موجود بنکرز میں چلے گئے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز