طوفانی بارشوں، برف باری سے 83 افراد جاں بحق

اسلام آباد: ملک کے مختلف علاقوں میں طوفانی بارشوں اور برفباری سے کم از کم 83 افراد جاں بحق اور کئی زخمی ہو گئے ہیں۔

ہم نیوز کے مطابق آزاد کشمیر کے علاقے نیلم ویلی میں برفانی تودے تلے دب کر 60 افراد جاں بحق ہوگئے اور پانچ افراد کو زخمی حالت میں نکالا گیا۔

ہم نیوز کے مطابق سول انتظامیہ اور پاک فوج کا ریسکیو عملہ برفانی تودے تلے دبے 10 سے زائد افراد کو  نکالنے میں مصروف ہے۔

ذرائع کے مطابق آزاد کشمیر کے علاقے دودنیال گھوری میں گلیشیئر کی زد میں آکر ایک بچی جاں بحق ہو گئی ہے۔

ہم نیون کے مطابق برفانی تودہ گرنے سے مظفرآباد نیلم روڈ  بھی لوات کے مقام  پر ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کردی گئی ہے.

ہم نیوز کے مطابق ملک بھر میں بارشوں اور برف باری کے وجہ سے مختلف علاقوں میں پچھلے 36 گھنٹوں میں جان بحق ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 83 ہوگئی ہے۔ سب سے زیادہ ہلاکتیں آزاد کشمیر میں ہوئیں ہیں۔

دوسری طرف مانسہرہ میں بالاکوٹ کے قریب سکی کناری ڈیم کی تعمیراتی کمپنی کے مزدوروں کے رہائشی کیمپ پر برفانی تودہ گر گیا۔ تاہم حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

ذرائع کے مطابق برفانی تودہ گرنے سے شاہراہ کاغان اندھیرا بیلہ کے مقام پر بند ہوگئی ہے۔ مری جی پی او چوک میں سیاحوں کی گاڑیاں برف میں پھنس گئیں۔ لواری ٹنل برفباری کے باعث دو روز سے بند پڑی ہے ۔

دوسری طرف برفباری کی وجہ سے چترال کو خیبر پختونخواہ اور دوسرے علاقوں سے ملانے والی لواری ٹنل دو روز سے بند پڑی ہے، جس کی وجہ سے لواری ٹنل کے دونوں اطراف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق شدید برفباری کی وجہ سے خیبر پختونخواہ کے ضلعے دیر میں بھی مسافر پھنس گئے ہیں۔

مری میں بھی برفباری نے سیاحوں اور مقامی افراد کے لیے مشکلات پیدا کردی ہیں۔ مری جی پی او چوک میں سیاحوں کی گاڑیاں برف میں پھنس گئی ہیں۔ ایک طرف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں تو دوسری طرف انتظامیہ بھی غائب ہوگئی ہے۔

دریں اثناء کوئٹہ کے علاقے کان مہترزئی میں ریسکیو آپریشن مکمل کر کے برف میں پھنسے 500 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ ریسکیوٹیموں نے برف میں پھنسے 80 گاڑیوں کو بھی نکال دیا ہے ۔

ریسکیو آپریشن رات 9 بجے شروع ہوا جو صبح 6:30 تک بلا تعطل جاری رہا، وزیر اعلیٰ جام کمال نے تمام ریسکیو آپریشن کی خود نگرانی کی اور متاثرہ افراد کو تمام ممکن سہولیات دینے کی ہدایت کی۔

شدید سردی سے متاثر ہونے والے افراد میں گرم کمبل، خوراک اور دیگر ضروری سامان تقسیم کیا گیا ہے۔ بلوچستان کے کئی علاقوں میں برف باری کا سلسلہ ابھی بھی نہیں تھما ہے۔

پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل کے مطابق آپریشن میں پی ڈی ایم اے، ضلعی انتظامیہ اور ایف سی کے اہلکاروں نے حصہ لیا۔

ڈی سی قلعہ سیف اللہ ڈاکٹر عتیق الرحمن کے مطابق سڑکوں سے برف ہٹانے کا کام جاری ہے۔ برفباری کے بعد بند کی گئی مسلم باغ شاہراہ بھی کھول دی گئی ہے۔

دریں اثناء گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع میں میں شدید برف باری  سے زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔ شدید برف باری اور برفانی تودے گرنے سے آپس میں ملانے والی کئی سڑکیں بند ہوگئی ہیں۔ برفانے تودے گرنے سے شاہراہ قراقرم چلاس کے قریب تتہ پانی کے مقام پر بند ہوگئی ہے۔

ایف ڈبلیو او کا عملہ شاہراہ قراقرم کو ٹریفک کے لیے  کھولنے کے لیے مصروف ہے۔

دریں اثناء وزیراعظم عمران خان نے اپنے ایک ٹویٹ میں آزاد کشمیر میں برفباری اور لینڈ سلائیڈنگ سےمتاثرہ علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر ریلیف فراہم کرنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔

وزیراعظم نے این ڈی ایم اے، فوج اور وفاقی وزراء کو متاثرہ علاقوں میں ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آزاد جموں کشمیر میں شدید برفباری اور لینڈسلائیڈنگ سے اموات ہوئیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز