قومی اسمبلی کا اجلاس، شہریار افریدی اور رانا ثناء اللہ میں تندوتیز جملوں کا تبادلہ

آرمی ایکٹ ترمیمی بل آج قومی اسمبلی میں منظوری کیلئے پیش کیا جائے گا

فوٹو: فائل

اسلام آباد:  قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیر مملکت برائے انسداد منشیات شہریار افریدی اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما رانا ثناء اللہ کے درمیان تندو تیز جملوں کا تبادلہ ہوا۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اچھا ہوتا رانا ثناء اللہ آج ایوان میں ہوتے۔ جمعہ کے روز میں نہیں تھا ان کو بھی میرا نتظار کرنا چاہیے تھا۔ میں بھی ان کا انتظار کر لیتا ہو وہ ادھر ہی اسلام آباد میں ہونگے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ جمعہ کے دن رانا ثنااللہ قرآن مجید ایوان میں لے کر آئے۔ شکر ہے وہ قرآن ہاتھ میں لیکر پھر رہے ہیں، ماڈل ٹاؤن والے بھی دیکھ رہے ہیں۔ آج راناثنا اللہ آکر قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر بات کریں۔

شہریار آفریدی نے کہا کہ رانا ثنااللہ قرآن مجید ایوان میں لے کر آئے جبکہ ماڈل ٹاؤن کے شہدا سات سال سے رانا ثنااللہ کے اس معاملے پر قرآن اٹھانے کا انتظار کر رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ میں حیران ہوں رانا ثنا اللہ آج سی این ایس کورٹ کی بات کرتے ہیں آج ان کی تمام کوتاہیاں نظر آئی۔ رانا ثناءاللہ کو احسا س ہو نا چاہیے کہ عدالت کا فیصلہ عدالت میں ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ آج مختلف خربے استمعال کر کے 7 ماہ سے ٹرائل شروع نہیں کر رہے ہیں۔ رانا ثناءاللہ کے بقول انکے خلاف ساز ش کی گئی یہ فیصلہ میڈیا اور نہ ہی پارلیمان نے کرنا ہے، اسکا فیصلہ عدالت کریگی۔

شہریار افریدی نے کہا کہ رانا ثناءاللہ سے سوال ہے کہ سات ماہ سے ٹرائل سے بھاگ کیوں رہے ہیں۔ آپ ٹرائل میں تاخیر ی حربے استعمال کر رہے ہیں۔ تمام ثبو ت جن پر فیصلہ ہونا ہے اس پر بات نہیں کی گئی اور میڈیا ٹرائل ہو رہا ہے۔ قرآن مجید پر عمل کرنا ضروری ہے۔ رانا صاحب قرآن پر عمل کرنا سیکھیں

شہریار افریدی نے کہا کہ ویڈیوز تو آیان علی، رانا مشہود اور ماڈل ٹاؤن کیس  کی بھی تھیں۔ عابد شیر علی کے والد نے کہا کہ انہوں نے 21 لوگوں کو مارا، اسکی بھی ویڈیو تھی۔ ہم ایوان میں کسی کو ٹارگٹ کرنے نہیں آئے ہیں۔ اگر کسی جگہ میں نے قسم کھائی ہو، جو چور کی سزا ہو وہ میری سزا ہو۔

 

انہوں نے کہا کہ اگر میں نے یا وزیر اعظم نے سازش کی تو مرتے وقت اللہ کلمہ نصیب نہ کرے۔ 18 تاریخ کو سماعت ہےدودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائیگا

شہر یار آفریدی کے خطاب کے دوران رانا ثناء اللہ ایوان میں پہنچ گئے۔ لیگی اراکین نے کے شیر شیر کا نعرہ لگایا اور رانا ثناء اللہ کا ڈیسک بجا کر استقبال کیا۔

شہر یار افریدی نے تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اسپیکر صاحب آج ان کے ہاتھ میں قرآن مجید نہیں بلکہ فائل ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت آپکو بھاگنے نہیں دے گی۔ ہم ڈرنے والے نہیں ہیں۔ سی این ایس ایکٹ آپ نے بنایا تھا۔ ثابت ہو گا رانا ثنا اللہ کے حوالے سے تمام چیزیں حقائق پر مبنی ہیں۔ ان کے اثاثے بڑھے یہ تمام چیزیں ایک چیز سے جڑتی ہیں۔

وفاقی وزیر انسداد منشیات نے کہا کہ رانا ثناءاللہ کہہ دیں ٹرائل شروع ہو جائے، حقیقت قوم کے سامنے آجائیگی۔ ہم آپکو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔

اسمبلی اجلاس کے دوران رانا ثنا اللہ تقریر کے لیے کھڑے ہوئے تو حکومتی اراکین کے ماڈل ٹاؤن ماڈل ٹاؤن کے نعرے لگائے۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ماڈل ٹاؤن کا مقدمہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چل رہا ہے۔ ماڈل ٹاؤن کا مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہے، عدالت کا جو بھی فیصلہ  ہوگا فریقین کیلئے قابل قبول ہوگا۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اگرحکومت ماڈل ٹاؤن پر کوئی اور انکوائری کرنا چاہے تو اس کے لیے بھی تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شہریار آفریدی نے فرمایا رانا صاحب کے پاس فائل ہے قرآن نہیں۔ اللہ نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی آدمی قسم کھائے تو صرف اور صرف اللہ کے نام کی کھائے، کیوں کہ اللہ ہی حاضر و ناضر ہے۔

رانا ثناءاللہ نے کہا کہ قومی اسمبلی کی چھت پر رب کے نام ہیں، انہیں حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ زندگی میں کسی ہیروئن یا ڈرگ فروش سے کوئی تعلق نہیں رکھا۔ اگر کسی ڈرگ فروش سے تعلق ہوتو اللہ کا قہر نازل ہو۔

انہوں نے کہا کہ گرفتاری کے بعد  محکمہ برائے انسداد منشیات (اے این ایف) کے لوگوں نے 16 گھنٹے میں بات تک نہ کی کہ مجھ پر کیا کیس بنا رہے ہیں۔ اے این ایف والوں نے مجھے کہا کہ ہمیں معاملے کا نہیں پتہ اوپر سے حکم ہے۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ کہتے ہیں ٹرائل کا سامنا کریں، اس مقدمے میں تفتیش کون کریگا۔ تفتیشی نے میرے آمنے سامنے بیٹھ کر اتنا نہ کہا کہ آپ پر یہ کیس ڈال رہے ہیں۔ گرفتاری کے بعد 16 گھنٹے میں تفتیشی افسر نے بات تک نہ کی۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان سے فیصل آباد اور لاہور تک ڈرگ کا کیس بنایا۔ وہ گروہ جو پوری دنیا میں ڈرگ پھیلاتا ہے اسمیں سے کچھ آدمی پکڑے نہیں جانے چاہیے تھے۔ میرا کسی گروہ سے تعلق ثابت تو کرتے۔ شہریار آفریدی کو حقیقت معلوم ہے۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اگر شہریار آفریدی کو بات پر یقین ہے تو کہیں اللہ کو حاضر جان کر یہ بات کر رہاہوں اور غلط ہوں تو اللہ کا غضب نازل ہو۔ میرا اللہ انصاف کر دیگا۔

رانا ثناء اللہ نے تقریر ختم کی تو لیگی رہنما خواجہ آصف نے انہیں قرآن پاک تھمادیا۔ شہریار افریدی نے رانا ثناء اللہ سے قرآن پاک حاصل کرنے کی کوشش کی۔ جمعیت علمائے اسلام ف کے اراکین اسمبلی نے شہریار افریدی کو روکا۔

اجلاس کے بعد قومی اسمبلی کی اجلاس کی صدارت کرنے والے رکن فخر امام کو دونوں ارکان کو اسپیکر چیمبر میں طلب کرلیا۔
پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہریار افریدی نے کہا کہ پورا پارلیمان قرآن و سنت کے تابع ہے۔ جمعہ کو رانا ثناء اللہ نے ایون میں قرآن اٹھا کر بات کی۔ آج میں نے ایوان میں ان کو چیلنچ کیا جس سے وہ بھاگ گئے۔

انہوں نے کہا کہ رانا ثناء اللہ سات ماہ سے ٹرائل سے بھاگ رہے ہیں۔ اٹھارہ تاریخ کو ان کے مقدمے کی دوبارہ سماعت ہے۔ اگر سچا ہے تو ٹرائل ہونے دیں۔ آج چیلنچ کیا تو پھر قرآن اٹھایا۔ رانا ثناء نے الٹا مجھے چیلنچ کیا کہ قرآن اٹھائے۔ میں نے باوضو ہوکر قرآن اٹھایا۔

شہریار افریدی نے کہا کہ میں نے کہا کہ میں یا وزیراعظم نے ان کے خلاف کوئی سازش نہیں کی۔ اگر ہم نے سازش کی ہے تو اللہ کی ہم پر قہر ہو۔

انہوں نے کہا کہ آج تعلیمی اداروں میں بچوں کو منشیات کا عادی بنایا گیا ہے۔ آج میں پھر کہہ رہا ہوں کہ ہم کسی سے نہیں ڈریں گے۔ ظلم اور ظالم کے خلاف ڈٹ جائیں گے۔ہم بھاگنے والے یا بلیگ میل ہونے والے نہیں ہیں۔ ہم حق اور سچ کے ساتھ دیں گے۔ رانا ثناء میں  اگر ہمت اور سچا ہے تو ٹرائل کا سامنا کریں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز