ریلوے میں ڈیڑھ لاکھ روپے کے عوض نوکریاں فروخت ہونے کا انکشاف

ریلوے بھی عوام پر کرایوں میں اضافہ کا بم گرانے کو تیار

فوٹو: فائل

اسلام آباد: پاکستان ریلوے میں مبینہ طور پر ڈیڑھ لاکھ روپے کے عوض نوکریاں فروخت ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

راجن پور سے تعلق رکھنے والے حکومتی رکن سردار محمود خان مزاری نے بدھ کے روز قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ان کے حلقے میں ریلوے افسران نے ڈیڑھ ڈیڑھ لاکھ روپے کے عوض نوجوانوں کو نوکریاں فروخت کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ان کے پاس دستاویزی ثبوت موجود ہیں کہ ریلوے کے کس افسر نے کتنا کمیشن لیا اور کون کونسے بندوں کو نوکریاں دی گئیں۔

محمود خان مزاری نے کہا کہ پاکستان ریلوے کے سینئر افسران نے نوکریاں فروخت کر کے کمیشن کھایا ہے، جس کے ثبوت وہ حکومت اور متعلقہ حکام کو فراہم کر سکتے ہیں۔

پارلیمانی سیکرٹری برائے ریلوے فروح حبیب نے تاہم الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ میرٹ کے خلاف کسی کو بھی ریلوے میں نوکری نہیں دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام بھرتیاں میرٹ پر کی گئی ہیں اور کسی سے کوئی کمیشن نہیں لیا گیا ہے۔

حکومتی رکن قومی اسمبلی کے الزامات کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اس حوالے سے وزارت ریلوے سے رپورٹ طلب کرلی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز