پنجاب حکومت کا اورنج لائن ٹرین سے متعلق بڑا فیصلہ

پنجاب حکومت کا اورنج لائن ٹرین سے متعلق بڑا فیصلہ

فائل فوٹو

لاہور: پنجاب کی صوبائی حکومت نے لاہور میں اورنج لائن ٹرین 23 مارچ 2020 کو عوام کے لئے باقاعدہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مذکورہ فیصلہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کی زیر صدارت ہونے والے سی پیک کیمٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں چئیرمین پی اینڈ ڈی حامد یعقوب شیخ سمیت دیگر افراد بھی موجود تھے۔

اجلاس میں طے کیا گیا کہ اورنج لائن ٹرین سے متعلق چائنیز ٹھیکیدار کام کو بروقت مکمل کریں گے اور اس  پراجیکٹ کو مارچ میں ہر صورت عوام کے لئے کھولا جائے۔

چئیرمین پی اینڈ ڈی حامد یعقوب شیخ کے مطابق 23 مارچ کو باقاعدہ اورنج لائن ٹرین عوام کے لئے کھول دی جائے گی۔

خیال رہے کہ اونج لائن ٹرین کا منصوبہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے2015 میں شروع کیا تھا جس کا متعدد بار پہلے بھی افتتاح کیا جا چکا ہے۔

اورنج لائن ٹرین منصوبے کو ماس ٹرانزٹ منصوبہ بھی کہا جاتا ہے اور قبل ازیں شہبازشریف بھی ڈیرہ گجراں سے لکشمی چوک تک ٹریک کا افتتاح کر چکے ہیں۔

قبل ازیں اعلان کیا گیا تھا کہ اس منصوبے کا افتتاح10 دسمبر2019 کو کیا جائے گا لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا کر سروس کا آغاز نہیں ہو سکا۔

27 کلومیٹرپر بننے والا اورنج لائن ٹرین کا دو طرفہ ٹریک مکمل ہوگیا ہے۔ ڈیرہ گجراں سے علی پارک تک میٹرو اورنج لائن ٹرین کے 26 اسٹیشنز ہیں جن میں 24 زمین کے اوپر اور دو زیر زمین بنائے گئے ہیں۔

2015 میں شروع ہونے والا منصوبہ ایک سو باسٹھ ارب روپے میں مکمل ہونا تھا لیکن پانچ سال مکمل ہونے کے بعد اس پر300 ارب روپے سے زائد لگ چکے ہیں۔

اس منصوبے کے تحت لاہور شہر میں 4 مختلف روٹس پر ماس ریپڈ ٹرانزٹ ٹریک بچھائے جانے تھے۔ میٹرو بس (گرین لائن) اور اورنج لائن ٹرین (اورنج لائن) ہی نہیں بلکہ مستقبل میں بلیو لائن اور پرپل لائن کی تعمیر بھی منصوبے کا حصہ ہے۔

ڈیرہ گجراں سے شروع ہو کر علی ٹاؤن اسٹیشن پر ختم ہونے والے ٹریک کا گزر ودھا، اسلام باغ، سلامت پورہ، محمود بوٹی، پاکستان منٹ، شالیمار گارڈنز، باغبان پورہ، یو ای ٹی، لاہور ریلوے سٹیشن، لکشمی چوک، جی پی او، انارکلی، چوبرجی، گلشن راوی، سمن آباد، بند روڈ، صلاح الدین روڈ، شاہ نور، سبزہ زار، اعوان ٹاؤن، واحدت روڈ، ہنجروال، کینال، ٹھوکر نیاز بیگ اور علی ٹاؤن سے ہو گا۔

اس ٹریک پر چلانے کے لیے 27 ٹرینیں چین سے خریدی گئی ہیں۔ جبکہ ایک ٹرین کے پیچھے 5 بوگیاں لگائی جائیں گی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز