’ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان خود ماورائے عدالت قتل میں ملوث رہے ہیں‘

حکومت سندھ کا آئی جی پر عدم اطمینان: خدمات وفاق کے سپرد کرنے کی منظوری

فوٹو: ہم نیوز

کراچی:  وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایس ایس پی جمشد ٹاؤن ڈاکٹر رضوان احمد خود ماضی میں ماورائے عدالت قتل اور دیگر جرائم میں ملوث رہے ہیں۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے  انہوں نے کہا کہ  ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان نے اس سے قبل 2018 میں کراچی میں تعیناتی کے دوران ان لوگوں کو بھی اٹھایا اور مارا جو جرائم ترک کر چکے تھے۔

سعید غنی نے کہا کہ ڈاکٹر رضوان نے پی آئی بی کالونی کے رہائشی فیصل لودھی، جو متحدہ قومی مومنٹ (پاکستان) چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے تھے، اور دیگر افراد کے خلاف چھاپے مارے اور انہیں قتل کروایا۔

اس سے قبل ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان کے ایک رپورٹ میں دعوی کیا ہے کہ صوبائی وزیر سعید غنی کے بھائی فرحان غنی ایک اجرتی قاتل اور منشیات فروشوں کے سہولت کار ہیں۔

پریس کانفرنس کے شروع میں سعید غنی نے کہا کہ اس سے قبل ٹی وی پر ان کے بھائی کے خلاف خبر چلائی گئی ہے، جو کہ سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔

ان کا کہنا تھا اس سے قبل فروری 2018 میں بھی ایک انگریزی روزنامے میں ان کے خلاف خبر چلائی گئی تھی۔ اس رپورٹ میں مجھے سرپرست دکھایا گیا اور آئی جی کو ہٹانے کے لیے استعمال ہونے کا تذکرہ کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ مارچ 2018 میں اخبار کو خط لکھا اور پھر یاد دہانی خظ لکھا تھا لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ آج اس خبر سے متعلق بتانا چاہتا ہوں۔

سعید غنی نے کہا کہ ڈاکٹر رضوان، جو اس وقت جمشید  ٹاؤن کے ایس پی تھے،  نے میرے بھائی سے مخبری کرنے، آٹھ موٹر سائیکل لیکر دینے اور آفس کا فرنیچر دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ میرے بھائی نے میرے ساتھ یہ معاملہ اٹھایا تو میں نے اس سے متعلق اس وقت کے ڈی آئی جی سلطان خواجہ سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن نہ ہوسکی۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت شہر میں منشیات بڑہ گئی تھی، اے آئی جی سے بھی ملنے کی کوشش کی مگر ملاقات نہیں ہوئی اور بعد میں میں ایم پی اے بھی بن گیا۔

سعید غنی کا کہنا تھا کہ اس وقت وزیر داخلہ سہیل انور سیال سے  شکایت کی اور مسئلے کے حوالے سے بتایا اور انہوں نے ملاقات کے لیے کہا۔ میں نے اس مسٗلے پر اسمبلی فلور پر بات کرنے کی کوشش کی، مگر مجھے سہیل انور سیال نے روکا۔ اسمبلی سے باہر نکلا تو اے آئی جی کا فون آیا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے بعد آپریشن شروع ہوا مگر پولیس نے منشیات فروشوں کے ساتھ ساتھ بے گناہ لوگوں کو بھی پکڑا۔ اس وقت گینگ کا زمانہ بھی تھا اور جو لوگ جرائم سے توبہ کر گئے تھے ان کی پکڑ دھکڑ کی گئی۔ بے گناہ افراد کو پکڑا گیا اور ان کو مارنے کی بھی کوششیں کی گئیں۔

سعید غنی نے کہا کہ اس وقت ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان کو شکایت تھی کہ میں نے ان کے خلاف اے آئی جی کو شکایات کیوں کی۔ شکایت کے جواب میں  ڈاکٹررضوان نے ان لوگوں کو بھی اٹھایا جو جرائم چھوڑ چکے تھے۔ ایم کیوایم کے سابق عہدیدار فیصل لودھی، جو بعد میں پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے تھے، کے گھر پرچھاپے مارے گئے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت پیپلز پارٹی کے ضلعی صدر اقبال ساند نے ڈاکٹر رضوان سے رابطہ کیا  اور کہا کہ اگر فیصل لودھی گرفتاری کرنی ہے تو ان کی میں پیش ہوتا ہوں۔

سعید غنی کا کہنا تھا کہ ایک شخص کو ڈاکٹر رضوان نے گرفتارکیا اور اسے ماروائے عدالت قتل کیا۔ انہوں نے اس بندے کے قتل سے قبل اس کی رکارڈنگ بھی کی اوروہ رکارڈنگ اقبال ساند کو سنائی گئی۔ میں نے اس وقت کے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو حقائق سے آگاہ کیا۔

اس وقت  پولیس نے اس شخص کو حجام کی دکان سے اٹھا کر گرفتار کیا اور مار دیا۔ ڈاکٹر رضوان نے اپنے موبائل سے اس شخص کی اعتراف جرم کی رکارڈنگ سنائی

اس کا مطلب یہ ماورائے عدالت قتل ہے۔ واقع پر اے ڈی خواجہ نے واقع کی انکوائری کی۔ اس کی انکوائری تنویر اوڈو نے کی مگر نہ جانے وہ رپورٹ  کہاں گئی

سعید غنی نے کہا کہ میرا قصور صرف یہ تھا کہ میں پولیس کے خلاف شکایت کی اور نوجوان کے مارے جانے پر انکوائری کرائی۔

انہوں نے کہا کہ دو برس گزر گئے لیکن یہ رپورٹ منظر عام پر نہیں آگئی۔ میں نے جب کابینہ اجلاس میں اس سے متعلق بات کی تو امتیاز شیخ اور میرے خلاف رپورٹ سامنے آگئی۔

سعدید غنی نے کہا کہ امتیاز شیخ کے خلاف رپورٹ میں بھی غلط تاریخ دی گئی ہے۔ سندھ کی پولیس بھی شاید نیب کی طرح ہوگئی ہے۔ سندھ پولیس بھی جو مخالفت میں بولے گا تو اس کے خلاف ہوجاتی ہے۔

صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ سے کہتا ہوں کسی اچھے افسر سے اس معاملے کی انکوائری کرائی جائے۔ اگر انکوائری میں مجھ پر الزام ثابت ہوجائے تو میں سیاست اور وزارت سب چھوڑ دوں گا۔ میں نے عزت بڑی محنت سے کمائی ہے اور اسے خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز