شہباز شریف نے وزیراعظم کے خط کا جواب دے دیا

آپ منتخب وزیراعظم ہیں ڈکٹیٹر نہیں، شہباز شریف | humnews.pk

فائل فوٹو

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے وزیراعظم عمران خان کے خط کا جواب دے دیا۔

ہم نیوز کے مطابق خط میں انہوں نے چیف الیکشن کمشنر کے لیے تین نام تجویز کردیئے جن میں ناصر محمود کھوسہ، اخلاق احمد تارڑ اور عرفان قادر شامل ہیں۔

خط میں کہا گیا کہ بد قسمتی ہے کہ 25 نومبر سے جو عمل شروع کیا اس میں ابھی اتفاق رائےتک نہیں پہنچ سکے۔

شہباز شریف نے کہا کہ فہرست میں رد و بدل کرکے نام دوبارہ بھیج رہے ہیں، معاملے کوغیر ضروری التوا کا شکار نہ کیا جائے۔

15 جنوری کو وزیراعظم نے شہباز شریف کو خط میں بامعنی مذاکرات کی دعوت دی تھی۔

عمران خان کی جانب سے شہباز شریف کے نام لکھے گئے خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بامعنی مذاکرات کے لیے آپ کو خط لکھ رہا ہوں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کا زیر التوا معاملہ حل کرنا چاہتا ہوں۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے نام لکھے گئے خط میں وزیراعظم نے کہا ہے کہ آپ کو ازسر نو تشکیل کیا گیا پینل بھیج رہا ہوں۔

عمران خان نے جو تین نام بھیجے ان میں جمیل احمد، فضل عباس میکن اور سکندر سلطان راجہ کے نام شامل تھے۔

مزید پڑھیں: چیف الیکشن کمشنر: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈ لاک کی اندرونی کہانی

وزیراعظم کی جانب سے جو نام تجویز کیے گئے ہیں وہ بیورو کریسی سے تعلق رکھتے ہیں اور وفاقی سیکریٹری کے مناصب سے ریٹائر ہوئے ہیں۔

سابق چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان چھ دسمبر 2019 کو ریٹائر ہوئے ہیں۔ ان کی جگہ فی الوقت جسٹس (ر) الطاف قریشی قائم مقام الیکشن کمشنر کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

قواعد و ضوابط کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کی تقرری 45 روز کے اندر کرنا ضروری ہے لیکن چیف الیکشن کمشنر کے نام پر وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کے درمیان اتفاق رائے ہونا آئینی تقاضہ ہے۔

حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے درمیان تاحال چونکہ نام پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے اس لیے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری عمل میں نہیں آئی ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز