‘پرویز الہٰی کو شہباز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب کی پیشکش کر چکے ہیں’

اسلام آباد: سینئر صحافی عارف حمید بھٹی نے انکشاف کیا ہے کہ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے اپنے بھائی نوازشریف کی اجازت سے اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ کو وزیراعلیٰ پنجاب بننے کی پیشکش کی ہے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب تک عمران خان وزیراعظم ہیں عثمان بزدار وزارت اعلیٰ کا منصب نہیں چھوڑیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کے پرویزالہی کو پیشکش کی ہے کہ اسمبلی کا اسپیکر اور چند وزارتیں مسلم لیگ ن کے پاس ہوں گی جب کہ وزارت اعلیٰ مسلم لیگ ق کے پاس رہے تاہم انہوں نے یہ پیشکش قبول نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن احتساب سے بچنا چاہتی ہے اور جس کے لئے وہ نئے انتخابات کی جانب جانا جاتی ہے۔

خیال رہے گزشتہ روز مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما رانا ثناءاللہ نے پی ٹی آئی حکومت کی اہم اتحادی ق لیگ سے رابطوں کا انکشاف کیا تھا۔

نجی ٹی وی چینل کے پروگرام کے دوران انہوں نے کہا کہ ق لیگ کو پی ٹی آئی سے شکایتیں ہیں جبکہ خود حکمراں جماعت میں بھی پنجاب میں عثمان بزدار کی تبدیلی کی خواہش پائی جاتی ہے۔

رانا ثناءاللہ نے کہا کہ اگر ق لیگ تحریک انصاف سے اتحاد کا خاتمہ کردیتی ہے تو اس کے ساتھ مل کر جمہوری اور پارلیمانی انداز میں پنجاب حکومت گرانے کے بارے میں سوچا جائے گا۔

مزید پڑھیں: بی این پی (مینگل) کو بھی حکومت سے تحفظات

خیال رہے کہ حالیہ عرصے میں تحریک کے تقریباً تمام اتحادیوں کی جانب سے شکایتیں سامنے آئی ہیں۔

کچھ روز قبل متحدہ قومی مومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی نے اپنے استعفے کا اعلان کردیا۔

دوسری جانب بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) بھی صوبے میں ترقیاتی کام نہ ہونے پر تحفظات کا اظہار کرچکی ہے۔

ق لیگ بھی حکومتی کارکردگی پر تحفظات کا اظہار کرچکی ہے تاہم ذرائع نے کچھ روز قبل ہم نیوز کو بتایا تھا کہ پی ٹی آئی اتحادی نے اپنے اراکین کے لیے ترقیاتی فنڈز جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے مونس الہٰی کے لیے وفاقی وزارت مانگ لی ہے اور اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے انہیں یقین دہانی بھی کروادی ہے۔

یہ بات وزیراعظم عمران خان سے ہونے والی ملاقات میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بتائی۔ اس ضمن میں ذمہ دار ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیراعظم نے وزیراعللیٰ سے استفسار کیا کہ ق لیگ کے تحفظات کیا ہیں؟

ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ نے بتایا کہ ق لیگ کا مطالبہ ہے کہ ان کے اراکین کو ترقیاتی فنڈز دیے جائیں اور وفاقی کابینہ میں مونس الہٰی کو شامل کیا جائے۔

ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم نے وزیراعلیٰ پنجاب سے تفصیلات سننے کے بعد یقین دہانی کرائی کہ ق لیگ کے تمام تحفظات دور کیے جائیں گے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز