حمزہ شہباز نے آٹا بحران کے ذمہ داروں کو سامنے لانے کا مطالبہ کردیا

عدالت نے حمزہ شہباز کانام بلیک لسٹ سے نکالنے کا حکم دےدیا | humnews.pk

فائل فوٹو

لاہور: پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز نے ملک میں آٹا بحران پیدا کرنے کے ذمہ داروں کو سامنے لانے کا مطالبہ کردیا ہے۔

اسپیکر پرویز الٰہی کی زیر صدارت ہونے والے پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں  اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ بحران کا جو بھی موجد بنے اس کی نشاندہی ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ کسی کو چور ڈاکو کہنے سے صوبے کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ سیاست نہیں کرنا چاہتا، آپ بھی واقف ہیں نظام حکومت کیسے چلایا جاتا ہے۔

حمزہ شہباز نے سوال کیا کہ تین لاکھ ٹن گندم کیوں درآمد کی جا رہی ہے؟  پنجاب حکومت کہتی آٹے کا بحران نہیں  ہے، فیصلہ کرنا ہے کہ کون سچ اور کون جھوٹ بول رہا ہے۔ تین لاکھ ٹن گندم کیوں منگوائی جارہی ہے، درآمد کرنی ہے یا گوداموں میں اسٹاک کرنی ہے؟

انہوں نے کہا کہ چینی کا بحران بھی سامنے آ رہاہے۔ ایک دن میں پانچ روپے فی کلو چینی مہنگی ہوئی۔ ہم نے اور آپ نے عوام کے پاس جانا ہے، وہ پوچھیں گے آپ نے کیا ڈلیور کیا۔

حمزہ شہاز نے کہا کہ گوشت، مرغی کے بعد سبزیاں غریب آدمی کا خواب بن گئیں ہیں۔ ٹماٹر، آلو اور پیاز کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور اب چینی کی قیمت بھی اوپر جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کیا تماشا ہے آٹے کے ٹرک سڑکوں پر کھڑے ہیں اور زراعت والے صوبے میں لوگ آٹے کے بحران کا سامنا کررہی ہے۔ لوگ شکلیں بھول جاتے ہیں، اقتدار آنی جانی چیز ہے، اچھے کام کو یاد رکھا جاتا ہے۔

لیگی رہنما نے کہا کہ پاکستان کے غریب آدمی کی دکھ بھری داستان ہے، ہماری اور آپکی بات نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب کہا آئیں میثاق جمہوریت کی بات کریں، لیکن جواب میں چور ڈاکو کے نعرے آئے، مکافات عمل ہے۔

حمزہ شہباز نے کہا کہ ورلڈ بینک کی رپورٹس آ رہی ہیں۔ ڈیووس میں عمران خان نے کہا کہ کرپشن پر اکھاڑ پچھاڑ اور حکومتیں تبدیل ہوتی رہی ہیں۔ ڈیووس دورے کے دوران کرپشن پر رپورٹ آئی تو عمران خان نے کہا کہ کرپشن بڑھ گئی ہے۔ پاکستان 117 سے 120 درجے پر پہنچ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کیا یہ لمحہ فکریہ نہیں ہے کہ اراکین کالی پٹیاں باندھ کر جمہوریت بچانے کے لیے ایوان میں آئے ہیں۔ ریاست مدینہ کی سوچ اچھی ہے لیکن سپریم کورٹ نے خیبر پختونخواہ حکومت کو پانچ لاکھ جرمانہ نااہلی پر نہیں، جھوٹ بولنے پر کیا۔

پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نے کہا کہ جیل کاٹ رہا ہوں اور میرے ساتھی رہنما بھی جیل کاٹ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب زلزلہ آیا تو پوری قوم نے اپنا حصہ ڈالا اور بطور قوم اس کا حل تلاش کیا۔ قوم کو دہشت گردی کا سامنا رہا تو افواج پاکستان، پولیس اور رینجرز اس سے نمٹے۔ سوات آپریشن میں چالیس لاکھ لوگ بے گھر ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ جب کشمیر کا نام آتا ہے تو بے دردی سے قتل کا منظر آنکھوں کے سامنے گھومتاہے۔ بھارت کی جانب سے آرڈیکل 370 کے خاتمے کے بعد کشمیر کو قتل گاہ بنا دیاگیا ہے۔

حمزہ شہباز نے کہا کہ بھارت زور بازو اور کالے قانون سے وقتی طور پر انتقام تو لے سکتا ہے لیکن کشمیریوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ اقوام متحدہ کی قرارداد پر عمل درآمد بھارت کی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ظلم و بربریت سے واقعات رونما ہوتے رہیں گے۔ جب تک معاشی طور پر پاؤں پر کھڑے نہیں ہوتے، اتحاد پیدا نہیں ہوسکتا۔ دنیا ہماری نہیں سنتی ہے۔

حمزہ شہباز نے کہا کہ سی پیک کی جو بات کرتے ہیں ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ چین میں غربت و افلاس کے ڈیرے تھے، بے روزگار لوگ سڑکوں پر زندگی گزارتے تھے۔ نوے کی دہائی میں میں چین گیا تو وہاں انڈسٹریل زون بن رہا تھا، آج چین مضبوط معاشی پاور بن کر امریکہ جیسی سپر پاور کو کو ڈکٹیٹ کرواتاہے۔

حمزہ شہباز کی تقریر کے دوران پرویز الہی نے شور کرنے پر حکومتی رکن اسمبلی پر برہمی اظہار کرتے ہوئے انہیں جھاڑ پلا دی۔ اسپیکر نے کہا کہ اگر میں اپوزیشن کے رکن کو باہر نکال سکتا ہوں تو حکومتی بنچوں سے بھی باہر نکال سکتا ہوں۔

اسپیکر نے کہا کہ عظمی کاردار پہلے بولیں گی یا جس نے بولنا ہے پہلے نام دیں۔

حمزہ شہباز نے تقریر جاری کرتے ہوئے حمزہ شہباز نے کہا کہ چار سو فرانزک ٹیسٹ کے بعد قصور شہر میں ملزمان سامنے آئے۔ چونیاں واقعہ پر فرانزک لیب سے ملزم کی شناخت ہوئی۔ ن لیگ فرانزک لیب گھر لے کر نہیں گئی۔ عوام کے لیے منصوبہ شروع کیے اور وہ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایک واقعہ پر ریسکیو 1122 والے صرف پانچ منٹ میں پہنچتے ہیں۔  یہ پرویز الہی کا کارنامہ تھا جسے عوام نے پسند کیا اور ہم نے اپنے دور میں اس منصوبے کو آگے بڑھایا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سب ٹھیک ہے کے منترے سے باہر آکر عوام کے مسائل حل کرے۔ عظمی بخاری کے گھر کے باہر ٹرک بھیجنے سے کچھ نہیں ہوگا۔

حمزہ شہباز نے کہا کہ  آٹے بحران پر وفاقی حکومت کی بنائی کمیٹی کو صوبائی حکومت تسلیم نہیں کر رہی ہے۔ اگر موجودہ مسئلے کا حل نہ نکالا گیا تو لوگ سیاستدانوں سے نفرت کریں گے۔ گلی محلوں میں آٹے کے تھیلے پر لڑائیاں ہونگیں۔

اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے لیگی رہنما رانا مشہود خان نے کہا کہ صوبوں اور وفاق کے وزراء موجودہ صورتحال پر کہانی کچھ اور بتا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عظمی بخاری نے آٹے کا مسئلہ بتایا تو ایک تماشا کھڑا کرکے آٹے کا ٹرک ان کے گھر کے باہر کھڑا کر دیا گیا۔

رانا مشہود نے کہا کہ کس کے حکم اور حکومتی خرچے پر عظمی بخاری کے گھر کے باہر آٹے کا ٹرک لےجایاگیا؟  یہ استحقاق کے زمرے میں آتا ہے اور مقدمہ بنتا ہے۔

اس پر اسپیکر پرویز الہی نے کہا کہ اس میں شرم کی کیا بات ہے۔ آٹا کھاؤ یہ کوئی بری بات نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے ووٹ دیا ہے وہ ہمارے گریبان پکڑیں گے اور کہیں گے آٹے بحران پر سچ کیوں نہیں ہے۔

اجلاس کے دوران اسپیکر پرویز الہی  نے ایک بار پھر ارکان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایم پی ایز کے لیے ہوسٹل کے مسائل ہیں۔ سو کے قریب کمرے پرانے لوگوں سے خالی کروانے والے ہیں۔ اسمبلی اراکین کے لیے ڈیڑھ سو نئے کمرے بنائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کوئی مقابلہ نہیں کروانا کمرے خالی کروانے ہیں۔ خواتین کو ہوسٹل ملنا چاہیے۔ ان کے لیے بہت ضروری ہے

ن لیگ نے مریم نواز کو بطور بیٹی اپنے والد سے ملنے اور ان کی مکمل عیادت کی اجازت پر قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی۔

قرارداد مسلم لیگ ن کی رکن اسمبلی ثانیہ عاشق نے جمع کروائی۔ مریم نواز کو اپنے والد کی عیادت کےلیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی جائے۔

قرارداد میں کہا کہ مریم نواز نے اپنے عمل سے ہمیشہ ملکی قانون اور آئین کی پاسداری کی ہے۔ مریم نواز نے ہر قسم کی عدالتی سزا کا سامنا کیا ہے۔

قرارداد میں حکومت  سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت قانون اور انسانی تقاضے پورے کرتے ہوئے مریم نواز کو اپنے والد سے ملنے کی اجازت دے۔

دریں اثناء کرتار پور راہداری پر اسپیکر چوہدری پرویز الٰہی کے ریمارکس پر حکومتی خواتین ارکان اسمبلی نالاں نظر آئیں اور ریمارکس کو پریشر قرار دیا۔

ایوان نے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حکومتی رکن اسمبلی شاہدہ نے کہا کہ کرتار پور راہداری عمران خان کا کریڈٹ ہے۔ اسپیکر کے کے ریمارکس پر افسوس ہوا۔

انہوں نے کہا کہ چوہدری پرویز الٰہی کو پرانی باتیں نہیں دہرانی چاہیے تھی۔

حکومتی رکن اسمبلی طلعت نقوی نے کہا کہ کوئی جو مرضی کہتا پھرے، کرتار پور راہداری  کا کریڈت عمران خانکو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چوہدری پرویز الٰہی بھی حکومت میں رہے ہیں، انھوں نے کرتار پور منصوبہ کیوں شروع نہیں کیا۔ وفاق میں ایم کیو ایم اور یہاں چوہدری پرویز الٰہی اپنے بیٹے مونس الٰہی کو لیکر پریشر ڈال رہے ہیں۔

پی ٹی آئی کی رکن اسمبلی عظمی کاردار نے کہا کہ چوہدری پرویز الٰہی سے ایسے ریمارکس کی توقع نہیں تھی۔ اسپیکر کی کرسی غیر جانبدار ہوتی ہے۔ کرتار پور راہداری پر وزیر اعظم عمران خان کو کریڈٹ نہ دینا زیادتی ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز