پیراگون اسکینڈل کیس، خواجہ برادران کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع

خواجہ برادران کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید 14 روز کی توسیع

لاہور: عدالت نے مسلم لیگ ن کے رہنماؤں خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کے جوڈیشل ریمانڈ میں 29 جنوری تک توسیع کردی ہے۔

احتساب عدالت کے جج جواد الحسن نے خواجہ برادران کے خلاف پیراگون اسکینڈل کیس کی سماعت کی۔

کیس کی سماعت کے آغاز پر عدالت میں قیصر امین بٹ کی بیماری کی تحریری رپورٹس جمع کرائی گئی۔

اس موقع پر پراسیکیوٹر نے موقف اپنایا کہ  قیصر امین بٹ بہت بیمارہیں، آج پیش نہیں ہوسکتے، جس پرعدالت نے کہا کہ ہم ان رپورٹس کو نہیں مانتے، انہیں اسٹیچر پر لے کر آئیں۔

فاضل جج نے اپنے ریمارکس میں کیا کہ  جوڈیشل مجسٹریٹ ذوالفقار باری ہربار عدالت چھوڑ کر قیصر امین کا بیان کروانے آتے ہیں۔

انہوں نے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ باقی گواہ کدھر ہیں؟ جس پر انہوں نے بتایا کہ گواہ آ رہے ہیں۔

مزید برآں عدالت نے خواجہ برادران کو اجلاس میں جانے کی اجازت دیتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔

پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی کیس کا پسِ منظر

قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کے خلاف پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے میں خورد برد کی تحقیقات کا آغاز نومبر 2018 میں کیا گیا تھا۔

نیب نے مؤقف اپنایا تھا کہ مذکورہ سوسائٹی خواجہ سعد رفیق کی ہے جبکہ انہوں نے عدالت عظمیٰ میں سوسائٹی سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔

اس دوران رواں سال 24 فروری کو پیراگون سٹی کی ذیلی کمپنی بسم اللہ انجینئرنگ کے مالک شاہد شفیق کو جعلی دستاویزات کی بنیاد پر آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم کا ٹھیکا لینے کے الزام میں نیب نے گرفتار کیا تھا۔

نیب کے مطابق بسم اللہ انجینئرنگ کمپنی کی نااہلی کی وجہ سے حکومت کو 100 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔

بعد ازاں 11 دسمبر 2018 کو پیراگون ہاؤسنگ اسکینڈل میں خواجہ برادران، خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی خواجہ سلمان رفیق کو ضمانت مسترد ہونے پر لاہور ہائی کورٹ سے نیب نے حراست میں لے لیا تھا۔

نیب نےگرفتاری کے دوسرے ہی روز خواجہ برادران کو لاہور کی احتساب عدالت میں پیش کیا تھا، جہاں عدالت نے خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کو ابتدائی طور پر 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا تھا، بعد ازاں اس میں متعدد مرتبہ توسیع کی گئی ۔

پراسیکیوٹر نیب کے مطابق پیرا گون سوسائٹی میں 50 کنال سے زائد سرکاری اراضی کو شامل کیا گیا ہے جبکہ سوسائٹی کے ڈائریکٹر قیصر امین بٹ وعدہ معاف گواہ بن چکے ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز