پشاور: بچوں کے ساتھ زیادتی کی روک تھام کے لیے قانون سازی کا فیصلہ

پشاور: بچوں کے ساتھ زیادتی کی روک تھام کے لیے قانون سازی کا فیصلہ

پشاور: صوبہ خیبرپختونخوا میں بچوں کے ساتھ زیادتی اورتشدد کے پیش آنے والے واقعات کی روک تھام کے لیے آئندہ ایک ماہ میں قانون سازی کی جائے گی۔ اس بات کا فیصلہ اسپیکر مشتاق غنی کی زیر صدارت منعقدہ خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں طے کیا گیا جس میں انتظامی سیکریٹریوں اور ماہرین قانون و نفسیات نے شرکت کی۔

خیبرپختونخوا: گمشدہ و لاپتہ بچوں کی بازیابی کے لیے ’میرا بچہ الرٹ‘

ہم نیوز کے مطابق صوبہ خیبرپختونخوا اسمبلی اسپیکر مشتاق غنی کی زیرصدارت خصوصی کمیٹی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا جس میں بتایا گیا کہ سینٹ نے زینب الرٹ بل اسلامی نظریاتی کونسل کوسفارشات کے لیے بھیجا ہے۔

خصوصی کمیٹی کو دی جانے والی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کی روشنی میں خیبرپختونخوا میں قانونی عمل آگے بڑھایا جائے گا۔

ہم نیوز کے مطابق خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں دی جانے والی بریفنگ میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے جنسی جرائم میں اضافہ ہوا ہے۔ اجلاس کو دی جانے والی بریفنگ میں یہ بھی کہا گیا کہ ناقص تفتیش اور جدید ٹیکنالوجی کی عدم موجودگی کے باعث عدالتوں سے ملزمان کو قرار واقعی سزا نہیں ملتی ہے۔

انٹرنیشنل ڈارک ویب کے گرفتار سرغنہ کی گرفتاری کے بعد کیس میں اہم پیشر فت

بریفنگ میں کہا گیا کہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی غربت اور پھیلتی بے روزگاری سے بھی بچوں کا جنسی استحصال بڑھ رہا ہے۔

خصوصی کمیٹی کو دی جانے والی بریفنگ میں اعتراف کیا گیا کہ چائلڈ پروٹیکشن بیورو مکمل طور پر فعال نہیں ہوا ہے اور یہ کہ فحش مواد بھی پوری طرح روکا نہیں جا سکا ہے۔

ہم نیوز کے مطابق اسپیکر مشتاق غنی کی زیر صدارت منعقدہ خصوصی کمیٹی کو بتایا گیا کہ عدالتوں میں کیس سالوں تک چلتے رہتے ہیں اور آخر میں ملزمان رہا ہو جاتے ہیں۔ اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں ناقص فرانزک لیب کے باعث ٹیسٹ لاہور بھجوانے پڑتے ہیں۔

چیف جسٹس نے سات سالہ بچی سے زیادتی کا از خودنوٹس لے لیا

خصوصی کمیٹی نے منعقدہ اجلاس میں قانون سازی ، اس پر عمل درآمد اور اس کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کے لیے تین کمیٹیاں تشکیل دینے کا بھی فیصلہ کیا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز