وفاقی کابینہ میں آئی جی سندھ کے لئے مشتاق مہر کے نام پر اعتراض

اسلام آباد: وفاقی کابینہ کے اجلاس میں آئی جی سندھ کے عہدے کے لیے مشتاق مہر کے نام پر اعتراض اٹھایا گیا ہے۔

ذمہ دار ذرائع نے ہم نیوز کو بتایا کہ اس عہدے کے لیے سندھ حکومت سے دوبارہ نام منگوائے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ آئی جی سندھ کلیم امام شام چھ بجے اسلام آباد روانہ ہورہے ہیں۔

گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان کے دورہ کراچی کے دوران ان کی وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے ملاقات ہوئی تھی جس کے بعد ذرائع نے بتایا تھا کہ وفاقی حکومت نے سندھ کو آئی جی سندھ کلیم امام کو ہٹانا کا گرین سگنل دے دیا ہے۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ وفاق نے مشتاق مہر کو آئی جی سندھ تعنیات کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

مزید پڑھیں: ’تبادلہ ابھی نہیں ہوا، اتنی آسانی سے نہیں جاؤں گا‘

کچھ دیر قبل کراچی سنٹرل پولیس آفس میں یادگار شہدا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر کلیم امام نے انکشاف کیا تھا کہ ان کو ہٹانے کیلئے سازش کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں اتنی آسانی سے نہیں جاؤں گا، اگر میں گیا بھی تو ہاتھی سوا لاکھ کا ہی رہتا ہے فکر نہ کریں۔

آئی جی سندھ نے کہا کہ ہم نے جتنا کام بھی کیا یہ سب ٹیم ورک کا نتیجہ ہے، مجھ سے پہلے بھی بہت اچھے آئی جی رہے ہیں اور ہمارے تمام افسران میں بہت قابلیت ہے۔

کلیم امام نے کہا اپنی سروس میں ایسے دن بھی آئے جب کلمے پڑھ لیے تھے کہ آج آخری دن ہے، قانون نافذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس میں رکاوٹیں آتی ہیں لیکن ہم اپنے شہدا کو یاد رکھتے ہوئے قانون کا عملدرآمد کرانا ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز