ریلوے میں سابقہ حکومت کی اربوں روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

ریلوے میں اربوں روپے کی نئی بے ضابطگیوں کا انکشاف

فوٹو: فائل

لاہور: پاکستان ریلویز میں 14 ارب 80 کروڑ روپے سے زائد کی بدعنوانیاں اور بے ضابطگیاں کی نئی بدعنوانی سامنے آ گئی۔

سابق دور حکومت میں محکمہ ریلوے کی مالی بے ضابطگیوں پر مبنی آڈٹ رپورٹ منظرعام پر آگئی۔ رپورٹ میں ریلوے کی اربوں روپے کی نئی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان ریلوے میں 14 ارب 80 کروڑ 83 لاکھ 59 ہزار کی نئے مالی بدعنوانی کا اسکینڈل سامنے آیا ہے۔ ریلوے حکام نے قواعد و ضوابط کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے نومبر 2017 سے جنوری 2018 تک اربوں روپے مالیت کی 780 ہوپرویگنز، 20 بریک وینزخریدیں اور کروڑوں روپے مینوفیکچرنگ میں لگا دیے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہوپر ویگنز ضرورت سے زائد منگوائی گئیں جس کی وجہ سے قومی خزانے کو 7 ارب 88 کروڑ 20 لاکھ روپے کا نقصان ہوا جبکہ فکس فریٹ چارجز کی ریکوری نہ ہونے کے باعث 3 ارب 38 کروڑکا خسارہ ہوا۔ ایگزیکٹیو کمیٹی آف نیشنل اکنامک کونسل کی اجازت کے بغیر تبدیلیوں سے 20 کروڑ 10 لاکھ 52 ہزار روپے اضافی خرچ ہوئے۔

ویلڈنگ پلانٹس کے حصول پر غیر ضروری خرچہ کیا گیا جس کے باعث 93 لاکھ 31 ہزار روپے کا نقصان ہوا۔ سامان کی ترسیل بلواسطہ کرنے سے 2 کروڑ 64 لاکھ 12 ہزار بریک وینز کی مینوفیکچرنگ بھاری قیمت پر کی گئی جس کے باعث 2 کروڑ 20 لاکھ 20 ہزار روپے کا نقصان ہوا۔

یہ بھی پڑھیں وہ لمحہ جب عمران خان کو اسپتال کی نرسیں حوریں لگنے لگیں

رپورٹ میں کہا گیا کہ منصوبے میں غیر ضروری اخراجات، مہنگے داموں اشیاء کے حصول سے 7 کروڑ 89 لاکھ روپے جبکہ ویگنز میں تبدیلی کے لیے اضافی اخراجات کیے گیے جس سے قومی خزانے کو 1 کروڑ 5 لاکھ 5 ہزار روپے کا نقصان ہوا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز