گورنر سے مشاورت کے بغیر سندھ میں آئی جی تبدیل نہیں ہوگا، وفاق کا فیصلہ

گورنر سندھ سے ملاقات: تاجروں نے ہڑتال ختم کردی، ٹرانسپورٹرز نے انکار کردیا

کراچی: وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ گورنر سندھ سے مشاورت کے بغیر صوبے میں آئی جی تبدیل نہیں ہوگا۔

ذرائع نے ہم نیوز کو بتایا کہ نئے آئی جی کی تعنیاتی پر حکومت سندھ اور وفاق کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار ہے۔

سندھ کابینہ نے 15 جنوری کو آئی جی کلیم امام کو ہٹانے کی منظوری دی تھی جبکہ صوبے میں قائم مقام آئی جی پولیس تعنیات کرنے کی درخواست پہلے ہی مسترد کی جاچکی ہے۔

مزید پڑھیں: ’تبادلہ ابھی نہیں ہوا، اتنی آسانی سے نہیں جاؤں گا‘

گزشتہ روز حکومتِ سندھ نے اعلان کیا تھا کہ وفاق کو آئی جی سندھ کے لیے جو پانچ نام بھجوائے گئے تھے ان ہی میں سے عہدے کے لیے انتخاب کیا جائے۔

ترجمان سندھ حکومت کا کہنا تھا کہ مزید کسی نام پر اب گورنر سندھ سے مشاورت نہیں ہوگی۔

بدھ کو وفاقی حکومت نے اس حوالے سے عمران احمر کا نام تجویز کیا تھا۔ ذرائع نے ہم نیوز کو بتایا کہ وفاقی کابینہ نے مشتاق مہر، غلام قادر تھیبو اور کامران فضل کے ناموں پر اعتراض کیا جنہیں سندھ حکومت نے پیش کیا تھا۔

موجودہ آئی جی سندھ کلیم امام نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی تھی جس کے دوران انہوں نے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: آئی جی سندھ کی وزیراعظم سے ملاقات، تحفظات سے آگاہ کیا

ذرائع نے بتایا کہ آئی جی نے ملاقات کے دوران سندھ حکومت سے متعلق شکایات کے بارے میں وزیراعظم کو بتایا اور محکمہ پولیس میں مداخلت سے متعلق بھی آگاہ کیا۔

ملاقات کے دوران کلیم امام کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کے خلاف ضابطہ اقدامات ماننے اور من پسند ایس ایچ اوز اور ڈی ایس پیز لگانے سے انکار کیا۔

ذرائع کے مطابق آئی جی سندھ نے کہا کہ میں نے محکمہ پولیس کے لیے مختص فنڈز دیگر محکموں میں استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی اور نہ ہی جرائم پیشہ افراد کی سیاسی پشت پناہی کرنے والوں کو رعایت دی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز