رمضان شوگر ملز کیس، حمزہ شہباز کی ضمانت منظور

لاہور: عدالت نے رمضان شوگر ملز کیس میں مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما و سابق وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت منظور کر لی ہے۔

لاہورہائی کورٹ کے جسٹس مظاہرعلی اکبر کے سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

کیس کی سماعت کے آغاز پر عدالت نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ جب عدالت میں ریفرنس فائل ہو گیا تو  ضمنی ریفرنس کیوں دائر کیا گیا۔

جس پر نیب کے وکیل نے بتایا کہ تحقیقات میں جب بھی کوئی نئی چیز سامنے آتی ہے اس پر ضمنی ریفرنس دائر کیا جاتا ہے۔

جسٹس مظاہرعلی اکبر نے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ وہ کون سا قانون ہے جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ ریفرنس فائل ہونے کے بعد بھی کوئی ضمنی ریفرنس دائر کیا جا سکتا ہے؟

ان کا مزید کہنا تھا کہ  اگر نیب کے تفتیشی افسر 90 دن میں کوئی چیز فائنل نہیں کر سکتے تو کیا وہ وہاں بیٹھ کر کیرم بورڈ کھیلتے ہیں؟

عدالت نے نیب پراسیکیوٹر سے کہا کہ آپ سے جو بات پوچھی جائے اس کا آپ کے پاس جواب نہیں ہوتا، آپ قوم کا وقت اور پیسہ کیوں ضائع کر رہے ہیں؟

عدالت نے نیب کے وکیل سے پوچھا کہ جو نالے بنائے گئے کیا وہ صرف اس رمضان شوگر ملز کو فائدہ پہنچانے کے لئے تھے؟ آپ اختیارات کو ناجائز استعمال کرنے کے شواہد لے کر آئیں۔

جس پر نیب پراسیکیٹر نے جواب دیا کہ جس تفتیشی افسر نے کیس کی تحقیقات کی تھیں وہ اپنے امتحانات کی وجہ سے چھٹی پر ہیں۔

جسٹس مظاہر اکبر علی نقوی نے ریمارکس دیے کہ جو آپ لوگوں کی تحقیقات کا معیار ہے اس پر آپ سب کو پرائیڈ آف پرفارمنس دینا چاہئیے۔

عدالت نے مزید کہا کہ اس ملک کو کوئی ٹھیک نہیں کر سکتا یہ ایسے ہی چل سکتا ہے، ہم نے صرف اپنے خدا کو جان دینی ہے اور جو فیصلہ کرنا ہے وہ حق پر کرنا ہے۔

بعدازاں عدالت نے حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے دیگر کیسز کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی کردی۔

خیال رہے عدالت نے حمزہ شہباز کی رمضان شوگر ملز ریفرنس، آمدن سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت پر رہائی کیلئے درخواست پر نیب سے جواب طلب کیا تھا۔

ن لیگی رہنما نے اپنی درخواست میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ سیاسی خاندان سے تعلق ہونے پر سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، غیر سیاسی قوتیں نیب سمیت دیگر تحقیقاتی ایجنسیوں کو استعمال کر رہی ہیں۔

درخواستگزار نے مؤقف اپنایا ہے کہ حمزہ شہباز کیخلاف منی لانڈرنگ کیس کی گرفتاری کی وجوہات کی بنیاد پر ریفرنس بنایا گیا ہے، نیب منی لانڈرنگ کیس میں حمزہ شہباز کے ملازمین کو ہی بے نامی دار بنا دیا۔

لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخوست کے متن میں شامل ہے کہ حمزہ شہباز کو 189 دنوں سے گرفتار کیا گیا ہے مگر ابھی تک کوئی ریفرنس دائر نہیں کیا گیا۔ ملزم کیخلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع کرتے ہوئے نیب آرڈیننس کی دفعہ 18 کو پس پشت ڈالا گیا۔

حمزہ شہباز نے موقف اپنایا کہ چیئرمین نیب نے تحقیقات کیلئے قانونی رائے نہیں مانگی اور کیس میں اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کی بھی خلاف ورزی کی گئی۔

متن میں درج ہے کہ درخواستگزار ن لیگی کیخلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات آئین کے آرٹیکل 10 اے کی بھی خلاف ورزی ہے، نیب کو سرے سے ہی منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کا اختیار نہیں۔ اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ خصوصی قانون ہے جس میں چیئرمین نیب کو مداخلت کا اختیار نہیں۔

عدالت میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین نیب کو صرف آرڈیننس کی دفعہ 18 کے تحت تحقیقات کا اختیار ہے،  نیب کی تحقیقات 2005 سے 2008 کے دوران بیرون ملک سے موصول ہونے والی رقم کے گرد گھومتی ہیں۔

درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ 2005 سے 2008 تک حمزہ شہباز پبلک آفس ہولڈر نہیں رہے۔ بیرون ملک سے وصول رقم 14 سال پرانی ہے جس کا صرف محدود ریکارڈ موجود ہے۔

ہائی کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ حمزہ شہباز کیخلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات کو غیر قانونی و غیر آئینی قرار دے کر کالعدم کیا جائے، منی لانڈرنگ تحقیقات غیر قانونی ہونے کی بنیاد پر ضمانت پر رہا کرنے کا بھی حکم دیا جائے اور درخواست کے حتمی فیصلے تک حمزہ شہباز کو عبوری ضمانت پر رہا کرنے کا بھی حکم دیا جائے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز