زیادتی کے بعد بچوں کا قتل: مجرمان کیلئے سرعام پھانسی کی قرارداد منظور

فواد چوہدری نے اپنی ہی حکومت کے بل کو تنقید کا نشانہ بنایا

قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کا فیصلہ

فوٹو: فائل

اسلام آباد: پاکستان میں بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرمان کو سرعام پھانسی کی قرارداد قومی اسمبلی سے کثرت رائے سے منظور ہوگئی ہے۔

قرارداد وزیرمملکت علی محمد خان نے پیش کی اور حزب اختلاف کی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی نے اس کی مخالفت کی۔

راجہ پرویز اشرف نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پھانسی کی سزا ممکن نہیں کیونکہ پاکستان پر اقوام متحدہ کے قانون لاگو ہوتے ہیں اور کوئی بھی معاشرہ اس کو قبول نہیں کرے گا۔ پیپلزپارٹی رہنما نے تجویز دی کہ سزا سخت کر دیں مجرم کو اتنی سزا دیں کہ جیل میں مر جائے۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور وقافی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے بھی اپنے ٹویٹر پر اس بل کی مخالف کی۔

فواد چوہدری نے لکھا کہ میں اس قرارداد کی پرزور مذمت کرتا ہوں۔ یہ ظالمانہ تہذیب کے طریقوں میں ایک اورسنگین فعل ہے ، معاشرے متوازن انداز میں چلتے ہیں ظلم جرائم کا جواب نہیں ہوتا۔ یہ انتہا پسندی کا ایک اور اظہار ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ساحل کے مطابق پاکستان میں ہر روز گیارہ بچے جنسی زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں۔

پاکستان میں 450 سے زائد این جی اوز پر مشتمل نیٹ ورک چائلڈ رائٹس موومنٹ(سی آر ایم) کی جانب سے بھی بچوں کیساتھ جنسی کے زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے حکم دیا تھا کہ بچوں کیساتھ جنسی زیادتی کرنے والوں کے لیے سرعام پھانسی کا قانون لایا جائے۔ اس سے قبل

پاکستان پیپلزپارٹی کے اقلیتی رکن جیمز اقبال کا کم عمر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے مجرمان کو سرعام پھانسی دینے سے متعلق بل بھی متعلقہ کمیٹی کے پاس بھجوایا جا چکا ہے۔

مجوزہ بل کے مطابق سات سال سے کم عمر بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو سزائے موت دی جائے، اگر مجرم کی عمر 21 سال سے زائد ہو تو کم سے کم سو افراد کے سامنے پھانسی دی جائے۔ بل میں تجویز دی گئی ہے کہ 18 سال سے کم عمر بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو عمر قید کی سزا دی جائے۔

متعلقہ خبریں