پاکستان میں خودکشی کا بڑھتا رجحان اور معاشرتی بےحسی

خودکشی ایک ایسا عمل ہے جس میں انسان اپنی جان لینے کی کوشش کرتا ہے۔ مختلف معاشرے اس پر مختلف ردعمل دیتے ہیں۔ کہیں اسے مذہبی یا سماجی طور پر غلط عمل سمجھا جاتا ہے تو کہیں اسے درست اور بعض اوقات قابل ستائش عمل کا درجہ بھی دیا جاتا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر ہر 40 سیکنڈذ میں ایک شخص خودکشی  کرتا ہے۔ مجموعی طور پر سالانہ 800،000 افراد اپنی زندگی کا خاتمہ کرتے ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق اسے 15-29 سال کی عمر کے بچوں میں موت کی دوسری اہم وجہ سمجھا جاتا ہے۔ خودکشی کے واقعات دنیا بھر میں رونما ہوتے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق سال 2016 کے دوران خودکشی  کے 79 فیصد واقعات غریب ممالک سے تعلق رکھنے والے خاندانوں میں پیش آئے۔ تاہم اسی سال پاکستان میں خودکشی کی شرح 100،000 کی آبادی میں 1.4 فیصد رہی۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کے مطابق 2015 میں خودکشی کے 1،900 واقعات ریکارڈ کئے گئے تھے جبکہ 2016 اور 2017 میں یہ تعداد بڑھ کر بالترتیب 2،300 اور 3،500 تک جا پہنچی۔ ایچ آر سی پی کے مطابق خودکشی  کے 90 فیصد واقعات کوئی نہ کوئی ذہنی بیماری میں مبتلا ہونے کی وجہ سے پیش آئے۔ عالمی ادارہ صحت نے مزید پیش گوئی کی ہے کہ 2019 میں لگ بھگ 1.53 ملین افراد کی موت کی وجہ خودکشی ہوسکتی ہے لیکن ابھی تک کوئی سرکاری اعداد و شمار شائع نہیں کیے گئے ہیں۔

رپورٹ کیے گئے واقعات سے یہ واضح ہے کہ ملک میں خودکشی کی شرح بڑھ رہی ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں روزانہ خودکشی کے اوسطاً پانچ واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔ موت کی دوسری اہم وجہ ہونے کے باوجود اس کے لیے حکومت کی طرف سے کوئی اہم اقدامات نہیں اٹھائے جا رہے۔ پاکستان میں دوسرے ممالک کے مقابلے میں خودکشی کی شرح نسبتا کم ہے لیکن سرکاری اعدادوشمار کی عدم موجودگی اس امر پر سوال اٹھاتی ہے۔ درست اعداد و شمار موجود نہ ہونے کی مختلف وجوہات ہیں جیسا کہ واقعے کی اطلاع نہ دینا، خودکشی کو کچھ اور رنگ دینا، موت کے سرٹیفکیٹ میں غلط معلومات درج کرنا، فرانزک تفتیش کی عدم موجودگی اور موت کی وجہ کو خفیہ رکھنا۔ لہذا، موجودہ اعداد و شمار اصل مسئلہ کے صرف مختصر حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔

ڈاکٹر اقبال آفریدی (جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سنٹر کے نفسیات اور بہیویرل سائنسز ڈپارٹمنٹ کے ڈین) نے بتایا کہ دوہری شخصیت اور شیزوفرینیا جیسے دیگر امراض کے علاوہ ذہنی دبائو بھی خودکشی کی ایک بڑی وجہ ہو سکتی ہے۔ کسی شخص کے برتائو میں اچانک تبدیلی یا سماجی میل جول سے گریز کرنا، خطرات کی نشاندہی کرنے والے عوامل ہیں جن کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیئے۔ یہ اشارے ظاہر کرتے ہیں کہ اس شخص کو فوری مدد کی ضرورت ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ خود کشی کرنے کے راستے پر ہو۔

ڈان کی جانب سے دسمبر 2018 میں پاکستان میں خودکشی کے رجحانات اور اس کا سیاق و سباق اجاگر کرنے کے لیے ایک آن لائن سروے کیا گیا۔ سروے میں 5،157 افراد نے حصہ لیا جس کے مطابق 38 فیصد افراد کسی ایسے شخص کو جانتے تھے جس نے کبھی خودکشی کی کوشش کی۔ 43 فیصد افراد ذاتی طور پر کسی کو جانتے تھے جس نے خود کو مارنے کی کوشش کی۔ 45 فیصد افراد نے خودکشی کرنے کے بارے میں سوچا لیکن کوشش نہیں کی اور 9 فیصد افراد نے واقعتاً خودکشی کی کوشش کی۔ سروے کے نتائج نے یہ بھی بتایا کہ ذہنی صحت کے مسائل کے لیے پیشہ ورانہ مدد تک رسائی زیادہ تر افراد کے لیے ناممکن ہو جاتی ہے۔

اس سروے کے ذریعے خودکشی کرنے اور اس کے بارے میں سوچنے کے کئی محرکات سامنے آئے جن میں قریبی رشتہ داروں کا ناروا سلوک، جبری شادیاں، جیون ساتھی کا بچھڑ جانا اور محبت میں ناکامی سب سے نمایاں ہیں۔ مزید برآں جنسی زیادتی کے شکار افراد کا خودکشی کی طرف رجحان بڑھ جاتا ہے۔ بچپن میں بدسلوکی کا شکار ہونا اور والدین سے دوری عام طور پر بچوں کو خود کو نقصان پہنچانے کی طرف راغب کرتے ہیں۔ اکثر روایتی ماہر نفسیات، غذائی بےترتیبی یعنی بھوک کی کمی یا زیادتی کی غلط نشاندہی کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان بیماریوں میں مبتلا افراد اپنی جان لے کر اپنی پریشانی ختم کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ مختلف جنسی رجحانات رکھنے والے افراد کی بقا ایک اسلامی ریاست میں ناممکن بن جاتی ہے۔ مزید یہ کہ طلبا اور بالغ افراد، تعلیمی، معاشی اور معاشرتی دباؤ کا شکار ہو کر ہار مان جاتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں مذاق کا نشانہ بننا اور آن لائن ہراساں ہونے سے ایک فرد اپنی اہلیت کے متعلق شکوک کا شکار ہو جاتا ہے اور یہ اکثر دماغی صحت کے بہت سے مسائل کی بنیادی وجہ بن جاتا ہے۔

حکومت نے جسمانی صحت کے لئے ملک کے ہر کونے میں اسپتال تو بنا دیے لیکن ذہنی بیماری کو تسلیم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ایک طرف کسی نفسیاتی ماہر سے دماغی مسائل کے حوالے سے ملنا ہمارے معاشرے میں معیوب سمجھا جاتا ہے تو دوسری طرف لوگ ریاست کی لاپرواہی کی وجہ سے پریشانی کا شکار ہیں۔ ذہنی بیماری میں مبتلا عوام کے لیے 500 سے بھی کم مصدقہ ماہر نفسیات موجود ہیں جن کی اکثریت شہری علاقوں میں مقیم ہے۔ لہذا دیہی علاقوں سے آنے والے علاج کے خواہاں افراد کو سفر کے اخراجات کا بھی بندوبست کرنا پڑتا ہے۔ مختلف ماہر نفسیات ایک سیشن کے لیے تقریباً 500 سے 3000 روپے وصول کرتے ہیں۔ ان میں مزید دوائیوں کے اخراجات ملائے جائیں تو ایک عام فرد کے لئے مکمل علاج ناممکن ہوجاتا ہے۔

حکومت کو اس تشویشناک صورتحال پر قابو پانے کے لئے اہم اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ پالیسی سازی کے ذریعے تمام اسپتالوں میں ذہنی صحت کے ماہرین کی خدمات حاصل کرنا لازمی قرار دیا جانا چاہئے۔ 24 گھنٹوں کی مفت ہیلپ لائن کے ساتھ ساتھ ہر شہر اور گاؤں میں ذہنی صحت سے منسوب معاشرتی بدنامی کے ڈر کو مٹانے کے لئے آگاہی مہم چلانی چاہیے۔ اگر حکومت قانونی مدد کے ذریعے معاشی پروگراموں کی فراہمی کو یقینی بنائے تو معاشرے سے اس مسئلے کا خاتمہ ممکن ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز