پاکستان نے آئی ایم ایف کو سیلز ٹیکس کی شرح نہ بڑھانے پر قائل کرلیا

آئی ایم ایف سے معاملات طے پانے میں مزید وقت درکار

فائل فوٹو

اسلام آباد: پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے درمیان ہونے والے اہم مذاکرات مکمل ہوگئے، جس میں سیلز ٹیکس کی موجودہ شرح 17 فیصد پر برقرار رکھنے پر اتفاق ہوا۔

پاکستان اورآئی ایم ایف کےدرمیان مذاکرات میں پاکستان کی نمائندگی مشیرخزانہ حفیظ شیخ جبکہ آئی ایم ایف کی طرف سے مشن برائے پاکستان کےچیف نے کی۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات میں اتفاق کیا گیا کہ سیلز ٹیکس کی شرح 18 فیصد نہیں ہوگی۔ سیلز ٹیکس کی موجودہ شرح 17 فیصد پر ہی برقرار رہے گی۔

مزید پڑھیں: توانائی کا شعبہ پاکستان کیلئے تباہی کا باعث بن سکتا ہے، مشیر خزانہ نے خبردار کر دیا

ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف اتفاق ہوا کہ حکومت کوئی منی بجٹ نہیں لائے گی۔ جون تک ٹیکسز میں اضافہ نہیں کیا جائیگا اور ٹیکس ہدف کم نہیں ہوگا۔

ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ آمدن بڑھانے کے لیے نان ٹیکس آمدن بڑھائی جائےگی۔ پاکستان اور آئی ایم ایف نے اتفاق کیا گیا کہ نجکاری کے روڈ میپ پرعملدرآمد یقینی بنایاجائےگا۔

مذاکرات میں انفاق کیا گیا کہ نان ٹیکس آمدن میں 400 ارب روپے اضافہ کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: آئی ایم ایف پاکستان کے ٹیکس وصولیوں سے ناخوش

ذرائع نے ہم نیوز کو بتایا کہ ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس وصولیوں میں کمی پر آئی ایم ایف ایف بی آر کی کارکردگی سے ناخوش دکھائی دیا اور نئے ٹیکس لگانے کا تقاضا کرتا رہا۔  آئی ایم ایف  ٹیکس محصولات کے ہدف میں کمی کے حق میں نہیں ہے۔

ذرائع وزارت خزانہ کا کہنا ہے آئی ایم ایف کی ٹیم کو آگاہ کردیا گیا ہے کہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جائیگا، بلکہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیلئے مربوط نظام لایا جارہا ہے۔

متعلقہ خبریں