کور کمانڈر حملہ کیس: نو ملزمان کی سزائے موت برقرار، دو بری

سندھ پولیس افسران کے تبادلے معطل، حکومت سے جواب طلب

فائل فوٹو

کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے کور کمانڈر حملہ کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے نو ملزمان کی سزائے موت برقرار رکھی جبکہ دو کو بری کردیا۔

عدالت نے ملزمان یعقوب سعید خان اور نجیب اللہ کوبری کر دیا جبکہ عطا الرحمان، شہزاد باجوہ، دانش امام اور خرم سیف اللہ کی سزائیں برقرار رکھیں۔

ان کے علاوہ عزیز احمد، شہزاد مختار، راؤ خالد، شعیب صدیقی اور ممدا خالد کی سزائیں بھی برقرار رکھیں۔

مزید پڑھیں: آرمی چیف نے فوجی افسروں کی سزاؤں کی توثیق کر دی

ملزمان کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 2006 میں سزا سنائی تھی، انہوں نے کور کمانڈر کراچی احسن سلیم حیات پر حملہ کیا تھا۔

حملے میں چھ جوان شہید ہوئے تھے۔

دسمبر 2018 میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 15 دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کر دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: آرمی چیف نے11 دہشتگردوں کی سزائے موت کی توثیق کر دی

آئی ایس پی آر کے مطابق سزائے موت پانے والے دہشت گرد تعلیمی اداروں کو تباہ کرنے، معصوم شہریوں کے قتل اور کرسچین کالونی پشاور حملے میں ملوث ہیں۔

آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ دہشت گردی کی ان وارداتوں میں مجموعی طور پر 34 افراد شہید ہوئے، شہید افراد میں مسلح افواج کے 21 اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے 9 اہلکار شامل ہیں۔

دہشت گردوں کو فوجی عدالتوں نے سزا موت سنائی جبکہ 20 مجرموں کو قید کی سزا بھی سنائی۔

مزید جانیں: آرمی چیف نے 15 دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کر دی

سزائے موت پانے والے دہشت گردوں میں حمید الرحمان، سید علی، ابرار، فدا حسین، رضا اللہ، رحیم اللہ، عمر زادہ، امجد علی، عبدالرحمن، غلام رحیم، محمد خان، رحیم اللہ ولد نورانی گل، راشد اقبال، محمد غفار، رحمان علی شامل ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں نے دوران ٹرائل مجسٹریٹ کے سامنے اپنے جرائم کا اعتراف کیا اور تمام دہشت گردوں کا تعلق کالعدم تنظیموں سے ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز