پاکستان بار کونسل: سوشل میڈیا قوانین مسترد، وکلا نے مزاحمت کا اعلان کردیا

پاکستان بار کونسل: سوشل میڈیا قوانین مسترد، وکلا نے مزاحمت کا اعلان کردیا

اسلام آباد: پاکستان بار کونسل نے نئے سوشل میڈیا قوانین کو مسترد کر دیا ہے۔

ہم نیوز کے مطابق پاکستان بار کونسل کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ وفاقی کابینہ نے مبینہ طور پر سوشل میڈیا قوانین پاس کر لیے ہیں۔ اعلامیہ میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ نئے سوشل میڈیا قوانین دراصل میڈیا کو چپ کرنے کا طریقہ ہے۔

سوشل میڈیا کمپنیوں کی رجسٹریشن کا معاملہ معاشی ہے، فواد چوہدری

پاکستان بار کونسل کے مطابق حکومت سوشل میڈیا قوانین سے شہریوں کے ڈیجیٹل حقوق ختم کر رہی ہے جب کہ آئین کی شق 19 اظہار رائے کا حق دیتی ہے۔

ہم نیوز کے مطابق جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ہر شہری آئن لائن اپنی رائے دینے کا حق رکھتا ہے۔ پاکستان بار کونسل نے خبردار کیا ہے کہ حکومت نے مجوزہ سوشل میڈیا قوانین واپس نہ لیے تو وکلا بھرپور مزاحمت کریں گے۔

ہم نیوز کے مطابق پاکستان بار کونسل نے حزب اختلاف کی جماعتوں اور تمام منتخب عوامی نمائندوں سے کہا ہے کہ وہ ان قوانین کے خلاف آواز اٹھائیں۔

وفاقی حکومت نے سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے نئے قوانین بنالیے ہیں جن کی کابینہ نے منظوری بھی دے دی ہے۔

سوشل میڈیا پر پراپیگنڈہ روکنے کیلئے قوانین کی تیاری شروع

ہم نیوز نے ذمہ دار ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ نئے قوانین کے تحت سماجی رابطوں کے تمام عالمی میڈیا کمپنیوں کی تین ماہ میں پاکستان کے اندر رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے۔

وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد یوٹیوب، فیس بک، ٹوئٹر، ٹک ٹاک اور ڈیلی موشن سمیت دیگر تمام کمپنیوں کو آئندہ تین ماہ کے اندر اپنی رجسٹریشن کرانا ہوں گی۔ سماجی رابطوں کی تمام کمپنیوں کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ آئندہ تین ماہ میں اسلام آباد کے اندر اپنا دفتر قائم کریں گی۔ کمپنیوں کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ پاکستان میں رابطہ افسربھی تعینات کریں۔

ہم نیوز نے ذرائع سے بتایا تھا کہ سماجی رابطوں کی تمام کمپنیوں کے لیے یہ بھی لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ پاکستان میں اپنا ڈیٹا سرور بنائیں گی۔ نئے قوانین کے تحت یوٹیوب سمیت سوشل میڈیا پربنائے جانے والے مقامی پلیٹ فارمز کی رجسٹریشن کرانا بھی لازمی قرار دی گئی ہے۔

حکومتی اقدامات کے نتیجے میں قومی اداروں اور ملکی سلامتی کے خلاف بات کرنے والوں کے خلاف کارروائی ممکن ہوسکے گی۔ سوشل میڈیا کمپنیوں کو ریگولیٹ کرنے کے لیے نیشنل کو آرڈی نیشن اتھارٹی بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

نیشنل کو آرڈی نیشن اتھارٹی ہراسانی، اداروں کو نشانہ بنانے اور ممنوعہ مواد کی شکایت پر اکاؤنٹ بند کرنے کی مجاز ہوگی اور قواعد پر عمل نہ کرنے کی صورت میں 50 کروڑ روپے تک کا جرمانہ کرسکے گی۔

اسلام آباد: سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے پاکستان میں رجسٹریشن لازمی قرار

ذرائع کے مطابق سماجی رابطوں کی کمپنیوں کے خلاف اس صورت میں کارروائی بھی ممکن ہوگی کہ اگر وہ ویڈیوز نہ ہٹائیں۔ اس ضمن میں یہ بھی طے کردیا گیا ہے کہ اگر کمپنیاں تعاون نہیں کریں گی تو ان کی سروسز بھی معطل کردی جائیں گی۔

کمپنیوں پر بھی قواعد و ضوابط پہ عمل درآمد یقینی نہ بنانے کی صورت میں 50 کروڑ روپے تک کا جرمانہ کیا جا سکے گا

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز