بھارت نے برطانوی رکن پارلیمنٹ کو ملک بدر کردیا

نئی دہلی: بھارت کی انتہا پسند حکومت نے کشمیریوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی برطانوی رکن پارلیمنٹ کو دہلی کے ہوائے اڈے پر روک دیا اور ملک بدر کردیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق  برطانوی رکن پارلیمنٹ اور کشمیریوں کے حقوق کی کیمپینر ڈیبی ابراہام کو بھارتی حکام نے دہلی کے ہوائی اڈے سے ڈی پورٹ کر دیا۔ ڈیبی کو دہلی کے ہوائی اڈے سے دوبئی بھیجدیا گیا۔

بھارت نے برطانوی رکن پارلیمنٹ اورکشمیر گروپ کی سربراہ کو بھارت داخل ہونے سے روک دیا۔ ڈیبی ابراہام کو بھارتی حکام نے دہلی کے ہوائی اڈے سے ہی ڈی پورٹ کر دیا۔

مزید پڑھیں: کشمیر ہمارے لیے وہی اہمیت رکھتا ہے جو پاکستان کے لیے رکھتا ہے، ترک صدر

ڈیبی ابراہام برطانوی پارلیمنٹ کے “آل پارٹی پارلیمنٹرین گروپ فار کشمیر” کی چئیرپرسن ہیں۔ ؓبھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور مقبوضہ وادی میں جاری بھارتی مظالم پر ڈیبی ابراہام نریندر مودی کی بھارتی حکومت پر کڑی تنقید کرتی رہی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانوی رکن پارلیمنٹ کے پاس بھارت کا ایک سال کا ای ویزہ تھا جو رواں برس اکتوبر میں ختم ہونا تھا۔ تاہم ڈیبی کو حکام نے بتایا کہ ان کا ویزہ کینسل ہو گیا ہے۔

ڈیبی ابراہام کشمیر میں انسانی حقوق کی حوالےسے بھارتی جنتہ پارٹی کی مرکزی حکومت اور وزیراعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: پانچ اگست کو مودی نے کشمیر کی آزادی کا راستہ کھولا، عمران خان

ڈیبی کا تعلق برطانیہ کی سیاسی جماعت لیبر سے ہے اور وہ اولڈ کے علاقے سے رکن پارلیمنٹ ہیں۔ ڈیبی ابراہام کے مطابق بھارتی حکام کا رویہ انتہائی نازیبا تھا۔

دریں اثناء لارڈ نذیر احمد سمیت مختلف برطانوی اراکین پارلیمنٹ نے ڈیبی ابراہام کو بھارت کی جانب سے ڈی پورٹ کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔

دہلی ایئر پورٹ پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے مختصر بات چیت کرتے ہوئے  ڈیبی ابراہام نے کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے ممالک اور برطانوی حکومت کی اس پر خاموشی کو تنقید کا نشانہ بناتی رہوں گی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز