پاکستان کے مجموعی قرضے میں 23.36 فیصد اضافہ

پاکستان کے مجموعی قرضے میں 23.36 فیصد اضافہ

فائل فوٹو

کراچی: مالی سال 2019-20 کی دوسری ششماہی میں پاکستان پر قرضے اور دیگر واجبات میں 23.36 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کے ذمے قرض اور دیگر واجبات کی مد میں 40.994 ارب روپے واجب الادا ہیں جو کہ گزشتہ مالی سال اسی عرصے میں 33.229 ارب روپے تھے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکس وصولیوں اور آمدن میں اضافہ ہوا ہے لیکن کئی سالوں سے بڑھتے ہوئے قرض کی وجہ سے  بوجھ میں خاطر خواہ کمی نظر نہیں آرہی۔

یہ بھی پڑھیں: زرمبادلہ کے ذخائر میں 15 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کا اضافہ

پنجاب حکومت نے پہلی ششماہی میں 185 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کر لیا

اندورنی قرض( کمرشل بینکوں اور دیگرمالیاتی اداروں سے لیا گیا ادھار) رواں مالی سال کے آخر تک چار ارب ڈالر سے بڑھ کر 111.047 تک پہنچ جائے گا جو گزشتہ مالی سال 107.059 ارب ڈالر تھا۔

جون 2019 میں پاکستان کا بیرونی قرض 106.3 ارب ڈالر تھا اور مالی سال 2019-20 کے پہلے چھ میں ماہ میں 4.7 ارب ڈالر اضافہ ہوا تھا۔

مقامی سطح پر بھی قرض میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دسمبر 2019 کے اختتام تک یہ قرض 17.52 کھرب تھا جو کہ 23.61 فیصد اضافے کیساتھ 21.676 کھرب تک پہنچ گیا ہے۔

علاوہ ازیں پاکستان کا مجموعی قرض( اندرونی+ بیرونی+ آئی ایم ایف) 1.004 کھرب اضافے کیساتھ 33.711 کھرب روپے ہو گیا ہے جو کہ جون 2019 میں 32.707 کھرب روپے تھا۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے قرض کو روکنے کیلئے مزید اقدامات کرنے ہوں گے۔

فروری 2019 میں اسٹیٹ بینک نے بتایا تھا کہ پاکستان کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر کی مالیت 12 ارب 43 کروڑ ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ کمرشل بینکوں کے پاس 6 ارب 30 کروڑ 46 لاکھ ڈالر کے ذخائر ملا کرمجموعی مالیت 18 ارب 73 کروڑ 54 لاکھ ڈالر تھی۔

زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے بعد ملکی مجموعی ذخائر فروری 2017 کی سطح پر پہنچ گئے تھے۔ معاشی ماہرین کے مطابق ٹیکس وصولیوں کے اہداف کا پوار نہ ہونا بھی قرض میں اضافے کی ایک وجہ ہے۔

آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے  صوبہ پنجاب سے مالی سال 2019-20 میں 185 اعشاریہ 8 ارب روپے صرف ٹیکس کی مد میں جمع کیا گیا جب کہ ہدف 388 ارب تھا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز