بین الاقوامی ٹیموں کی پاکستان آمد دیکھنا چاہتا ہوں، کمار سنگاکارا

اسلام آباد:  ایم سی سی کے صدر و سری لنکا کے سابق کپتان کمار سنگاکارا نے کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی کرکٹ ٹیموں کی پاکستان آمد دیکھنے کے خواہشمند ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی)  پوڈ کاسٹ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایک بار پھر پاکستان آنے پر بہت خوش ہوں۔

کمار سنگاکارا نے کہا کہ یہاں آنے کا مقصد پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کے لیے مستقل بنیادوں پر راہ ہموار کرنا ہے۔

مزید پڑھیں: کمار سنگاکارا کی نصف سنچری مکمل

انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی دورے کے دوران ہوٹل تک محدود رہنے کی بجائے شہر کے مختلف علاقوں کی سیر کرنا ہمیشہ خوشگوار لمحہ ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دورہ لاہور کے دوران ایم سی سی کی ٹیم متعدد بار جمخانہ گولف کورس گئی، اسکواڈ میں شامل کھلاڑیوں نے وہاں کی مہمان نوازی کا بھرپور لطف اٹھایا۔

کمار سنگاکارا نے کہا کہ وہ یہاں سے عوام کی گرمجوشی، تماشائیوں کے شاندار استقبال، کھلاڑیوں کے جوش اور شہر کی سیر سے متعلق خوشگوار یادیں اپنے ساتھ واپس لے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی مستقل بحالی کی غرض سے یہاں دیگر ممالک کی ٹیموں کو کھیلتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

کمار سنگاکارا کا کہنا تھا کہ دورے کی غرض سے پاکستان ایک شاندار ملک ہے اور وہ اپنے ہمراہ بھی یہی پیغام لے کر واپس جارہے ہیں۔

صدر ایم سی سی نے کہا کہ انہیں یہاں کھیلے گئے تمام میچز اب بھی یاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاہور قلندرز کے خلاف وارم اپ میچ میں جس طرح 19ہزار شائقین کرکٹ اسٹیڈیم میں موجود تھے، انہیں دیکھنا بھی ایک یادگار لمحہ رہے گا۔

ایم سی سی کرکٹ ٹیم کے کپتان نے کہا کہ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ پاکستانی عوام کرکٹ سے کتنی محبت کرتی ہے اور یہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے معاشی استحکام کے لیے کتنا ضروری ہے۔

بارہ ہزار چار سو ٹیسٹ رنز بنانے والے سابق کرکٹر کمار سنگاکارا نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ کرکٹ کو عظیم کھلاڑی دئیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ملک کرکٹر پیدا کرتا ہے، یہاں سے بہت سے فاسٹ باؤلرز، اسپنرز، بیٹسمینز اور وکٹ کیپرز دنیا کے افق پر نمودار ہوئے اور اس دورہ کے دوران بھی انہیں کچھ مختلف نہیں لگا۔

چار روزہ ٹیسٹ کرکٹ کی تجویز سے متعلق  صدر ایم سی سی نے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ ان کا پسندیدہ فارمیٹ ہے اور اسے پانچ روز تک محدود رکھنے کی حمایت کرتے ہیں مگر حقیقت ذرا مختلف ہے اور ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ان دنوں کتنے ٹیسٹ میچ پانچویں روز تک جاتے ہیں، ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ پانچ روز کی کرکٹ دیکھنے کتنے لوگ اسٹیڈیمز کا رخ کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ آیا یہ مستقبل میں کارگر بھی رہے گا؟

کمار سنگاکارا نے کہا کہ چند ممالک میں کرکٹ کے مداحوں کی اوسط عمر 45 سال سے زائد ہے جو کہ حوصلہ افزاء نہیں۔

مزید پڑھیں: ایم سی سی 48 سال بعد کمار سنگاکارا کی قیادت میں پاکستان پہنچ گئی

انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ کھیل نوجوانوں میں مقبول کرنے کے لیے سوچ و بچار کی ضرورت ہے، یہی وجہ ہے کہ ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ سمیت ٹیسٹ کرکٹ میں جدت لانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

کمار سنگاکارا نے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ اب صرف بڑی ٹیموں تک محدود نہیں بلکہ چھوٹی ٹیموں کو بھی ٹیسٹ اسٹیٹس دیا جارہا ہے، اب ایسا نہیں ہوسکتا کہ چند ٹیمیں پانچ روزہ کرکٹ کھیلیں اور کچھ چار روزہ ٹیسٹ کرکٹ کھیلا کریں۔

صدر ایم سی سی نے مزید کہا کہ یہ ایک ایسی بحث ہے جو مزید کچھ عرصہ جاری رہے گی مگر جو بھی ہو ہمیں اس کے عملی طور پر درست اور بہترین نتائج ڈھونڈنے ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز