پنجاب حکومت کا اہم عہدوں پر غیر متعلقہ افسران کی تعیناتی کا نوٹس

لاہور: پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں اہم ترین سرکاری عہدوں پر پیشہ ورانہ انجنیئرز کے بجائے غیر متعلقہ افسران کی تعیناتیوں کا نوٹس لے لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن نے انتظامی سیکرٹریز کو انتباہی مراسلہ ارسال کر دیا ہے۔

محکمہ سروسز کے جانب سے انجینئرز کی پوسٹس پر صرف پاکستان انجینئرنگ کونسل کے رجسٹرڈ انجنیئرز کو تعینات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

محکمہ سروسز کے مطابق سپریم کورٹ کے 3 اکتوبر 2018 کے فیصلے کے تحت انجنیئرز کی پوسٹ پر صرف انجنیئرز کو ہی تعینات کیا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: ڈی جی پبلک ریلیشن کی تعیناتی، پنجاب حکومت سے جواب طلب

ذرائع کے مطابق پاکستان انجنیئرنگ کونسل نے بھی اس بابت چیف سیکرٹری پنجاب، چیئرمین پی اینڈ ڈی بورڈ اور سیکرٹری خزانہ کو مراسلہ ارسال کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق پنجاب انرجی کمپنی، قائداعظم ایپرل سولر پاور اور پنجاب پاور ڈویلپمنٹ کمپنی میں اہم عہدوں پر انجنیئرز ہی تعینات نہیں ہیں۔ اہم ترین ٹیکنیکل پوسٹس پر چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کو تعینات کیا گیا ہے۔

دوسری جانب پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے صوبائی حکومت سے اضافی فنڈز مانگ لیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق تعلیمی محکموں کی جانب سے محکمہ خزانہ پنجاب کو فنڈز جاری کرنے کی سمری ارسال کر دی گئی ہے۔ محکمہ خزانہ پنجاب کو تین ارب روپے جاری کرنے سمری بھجوائی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: پنجاب حکومت نے سرکاری دفاتر میں واٹس ایپ کے استعمال پر پابندی عائد کر دی

ذرائع کے مطابق محکمہ خزانہ پنجاب نے اضافی فنڈز کے اجراء کو سٹینڈنگ کمیٹی کی منظوری سے مشروط کردیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ اسکولز ایجوکیشن نے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت دیے گئے اسکولز کو ادائیگی کیلئے فنڈز مانگ لیے ہیں۔

پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے سکالر شپ کی مد میں مختلف ادائیگیوں کی مد میں اضافی فنڈز مانگ لیے ہیں۔

محکمہ خزانہ پنجاب کو ارسال سمری میں کہا گیا ہے کہ فنڈز کے اجراء نہ ہونے پر ادائیگیاں رک جائیں گی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز