نوازشریف کی مصدقہ میڈیکل رپورٹس جمع کرانے کیلئے24 گھنٹوں کا وقت

کورونا وائرس کا خدشہ، نواز شریف کو سیلف آئسولیشن میں رہنے کی ہدایت

فائل فوٹو

لاہور: نواز شریف کی صحت سے متعلق بنائی کی گئی پنجاب حکومت کی کمیٹی نے سابق وزیراعظم کی مصدقہ میڈیکل رپورٹس جمع کرانے کیلئے مزید 24گھنٹے کا وقت دے دیا ہے۔

پنجاب کے وزیرقانون راجہ بشارت نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ اگر کل تک مصدقہ رپورٹس نہ ملی یا نمائندے پیش نہ ہوئے توکمیٹی اپنی سفارشات حکومت کو ارسال کردے گی۔ نوازشریف کی ضمانت میں توسیع کا فیصلہ پھر حکومت کمیٹی کی سفارشات کے مطابق ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کی نئی میڈیکل رپورٹس پر پنجاب حکومت کے اعتراضات

کمیٹی نے آج نواز شریف کے ترجمانوں کو طلب کیا تھا تاکہ وہ تازہ رپورٹ اور اپنا موقف پیش کریں لیکن آج ان کی طرف سے جواب آیا کہ ہم نہیں آسکتے، وقت کم ہے۔

راجہ بشارت کا کہنا تھا کہ ہم نے انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ان کو مزید چوبیس گھنٹے کا وقت دیا ہے اگر پھر بھی رپورٹ نہیں آتی تو ہم قانون کے مطابق اپنی سفارشات مرتب کریں گے۔

دوسری جانب مسلم لیگ ن نے حکومت پنجاب کی کمیٹی کو خط لکھ کر آگاہ کیا ہے کہ اتنے مختصر نوٹس پر ڈاکٹرعدنان کی موجودگی یقینی نہیں بنا سکتے تاہم اگر اجازت دی جائے تو وہ کمیٹی اجلاس میں ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کی تازہ ترین میڈیکل رپورٹ سامنے آگئی

ڈپٹی سیکرٹری جنرل عطا اللہ تارڑ کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر عدنان سابق وزیر اعظم کے صحت کے معاملات دیکھ رہے ہیں بہتر ہے حکومتی کمیٹی ان سے ویڈیو لنک پر رابطہ کرے۔

پنجاب حکومت کی خصوصی کمیٹی نے ڈاکٹرعدنان کو ویڈیو لنک پر لینے کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ نوازشریف کی میڈیکل ٹیم کا حصہ نہیں ہیں۔

ڈاکٹر عدنان ہوم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے باربار رابطہ کرنے پر کہہ چکے ہیں کہ وہ اب میڈیکل ٹیم کا حصہ نہیں تاہم نوازشریف کی میڈیکل ٹیم ویڈیو لنک پر آنا چاہتی ہے تو انتظام کرسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ پنجاب حکومت کی کمیٹی نے نوازشریف کی سابق میڈیکل رپورٹس کو نامکمل قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔ ذرائع کے مطابق حکومت پنجاب نے نواز شریف کی میڈیکل اور ٹیسٹ رپورٹس  فراہم کرنے کا حکم دیا تھا تاہم نواز شریف کی تمام میڈیکل رپورٹس نہیں بھجوائی گئیں۔

سینئر ڈاکٹرز نے اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک خط کے ذریعے کسی بھی مریض کی صحت کو جانچنا ممکن نہیں۔ خط کے مندرجات کے ثبوت ساتھ نہیں لگائے گئے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز