پولی تھین بیگز پر پابندی کا فیصلہ، ایک ہفتے میں علمدرآمد کا حکم

کورونا وائرس، لاہور ہائی کورٹ نے کرائسز مینجمنٹ کمیٹی تشکیل دے دی

فوٹو: فائل

لاہورہائیکورٹ نے ضلعی انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ تمام ڈیپارٹمنٹل اسٹورز سے ایک ہفتے میں پولی تھین بیگز ختم کیے جائیں۔

جسٹس شاہد کریم نے ابوزر سلمان خان نیازی کی درخواست پر سماعت کی جس میں مؤقف اپنایا گیا تھا پولی تھین بیگز پر پابندی کے عدالتی حکم پر عملدرآمد نہیں ہورہا۔

جج نے لاہور کی انتظامیہ کو حکم دیا کہ ایک ہفتے کے بعد شہر کے ڈیپارٹمنٹل اسٹورز پر پلاسٹک بیگز نظر نہیں آنے چاہئیں۔ عدالت نے فیصلے کی تعمیل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم بھی دیا۔

یہ بھی جانیں: ’پلاسٹک بیگز کے متعلق قانون سازی کی ضرورت‘

سماعت کے دوران پلاسٹک بیگز بنانے والی فیکٹریوں کے مالکان نے درخوست میں فریق بننے کی استدعا کی جس کو عدالت نے مسترد کردیا۔

جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ پلاسٹک بیگز زہر بنتے جارہے ہیں اور دنیا میں ایسے پلاسٹک بیگز کا استعمال ختم ہو چکا ہے۔ امریکہ اور دیگر ممالک میں بڑی بڑی کمپنیاں خود کو گرین کمپنیوں کی طرف لیجا رہی ہیں

جج کا کہنا تھا کہ سمندر ختم ہو رہے ہیں، سمندر سے پوری دنیا کو خوارک دیتے ہیں۔ نے سات دن بعد رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے درخواست پر مزید سماعت 28 فروری تک ملتوی کردی۔

پنجاب کی صوبائی حکومت نے بھی پولی تھین بیگز پر پابندی لگانے یا ضروری قانون سازی کیلئے وزیر بلدیات و قانون راجہ بشارت کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا تھا۔

کمیٹی نے پولی تھین بیگز پر پابندی لگانے کے حوالے سے جامع سفارشات پیش کرنی تھیں تاہم دس ماس سے اس فیصلے پر کوئی کرے گی جبکہ اس ضمن میں قانون سازی بھی کی جائے گی۔

خیال رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی پلاسٹک بیگز کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی ہے جس مقصد ماحولیاتی اور آبی آلودگی کو کم کرنا ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز