پنجاب حکومت کی جانب سے نواز شریف کی ضمانت میں توسیع نہ کرنے کا امکان

نواز شریف کے خلاف ریفرنس دائر ہو گا تو کارروائی کریں گے، عدالت

فوٹو: فائل

لاہور: سابق وزیراعظم نواز شریف کی صحت سے متعلق تازہ میڈیکل رپورٹس پنجاب حکومت کو تاحال نہیں ملی ہیں، جس کے بعد صوبائی حکومت کی جانب سے ان کی ضمانت میں توسیع نہ کرنے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔

نواز شریف کی صحت سے متعلق بنائی کی گئی پنجاب حکومت کی کمیٹی نے سابق وزیراعظم کی مصدقہ میڈیکل رپورٹس جمع کرانے کیلئے 24گھنٹے کا وقت دیا تھا۔

دو دن قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرقانون پنجاب  راجہ بشارت نےکہا تھا کہ اگر 24 گھنٹے میں مصدقہ رپورٹس نہ ملی یا نواز شریف کے نمائندے پیش نہ ہوئے توکمیٹی اپنی سفارشات حکومت کو ارسال کردے گی۔ نوازشریف کی ضمانت میں توسیع کا فیصلہ پھر حکومت کمیٹی کی سفارشات کے مطابق ہوگا۔

ذرائع کے مطابق نواز شریف کی جانب سے تازہ مصدقہ رپورٹس نہ ملنے کے بعد پنجاب حکومت  کی جانب سے ان کی ضمانت میں توسیع نہ کرنے کے فیصلہ کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔

مزید پڑھیں: نوازشریف کی مصدقہ میڈیکل رپورٹس جمع کرانے کیلئے24 گھنٹوں کا وقت

ذرائع کے مطابق پاکستان مسلم لیگ نواز کی جانب سے ابھی تک نواز شریف کی صحت کے حوالے سے تازہ میڈیکل رپورٹس پنجاب حکومت کو نہیں ملیں ہیں

ذرائع کے مطابق گزشتہ روز لیگی رہنما عطا تارڑ نے پرانی رپورٹس حکومتی کمیٹی کو دوبارہ جمع کروائی تھیں

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ لندن سے نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کے وڈیو لنک بیان کی کوئی حثیت نہیں ہے۔ ڈاکٹر عدنان پہلے ہی بیان جمع کروا چکے ہیں کہ وہ نواز شریف کے لندن میں معالج نہیں ہیں۔

مزید پڑھیں: نواز شریف کا آپریشن 24 فروری کو ہونے کا امکان

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عطا تارڑ نے حکومتی کمیٹی پر واضح کیا کہ انکے پاس صرف نواز شریف کی وہ رپورٹس ہیں جو عدالت میں جمع کروائی گئی تھیں۔

حکومتی ذرائع کے مطابق حکومتی کمیٹی عطا تارڑ کی جانب سے جمع کروائی جانے والی رپورٹس محکمہ صحت کو بھجوائے گی۔

ذرائع کے مطابق رپورٹس کی روشنی میں آ ئندہ پیر کے روز نواز شریف کی ضمنانت میں توسیع کے معاملے پر کمیٹی اپنی سفارشات حکومت پنجاب کو بھیجوا دے گی۔  نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کے معاملے پر حتمی فیصلہ پنجاب حکومت آئندہ ہفتے کرے گی۔

 

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز