’صدارتی ریفرنس کے معاملے پر وزیراعظم مجھ سے ناراض نہیں‘

پاکستان بار کونسل نے فروغ نسیم کا لائسنس بحال کردیا

اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے جج کے خلاف صدارتی ریفرنس کے معاملے پر وزیراعظم مجھ سے ناراض نہیں ہیں۔

ہم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ان سے ناراضگی سے متعلق تمام خبریں غلط ہیں۔

فروغ نسیم نے کہا کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز کی جانب سے دائر جواب میں وزیراعظم کے خاندان پر اعتراض کی مذمت کرتے ہیں، یہ غلط ہے۔

وزیر قانون فروغ نسیم نے دعویٰ کیا کہ صدارتی ریفرنس پر وکلاء کی اکثریت حکومت کے ساتھ ہے، وکلاء مجھے جانتے ہیں، میں نے ہمیشہ آئین، قانون اور عدلیہ کی بالادستی کی بات کی ہے۔

مزید پڑھین: اٹارنی جنرل پاکستان انور منصور عہدے سے مستعفی

فروغ نسیم نے کہا کہ میں نے ہمیشہ وکلاء اور عدلیہ کی فلاح و بہبود کے لیے کام کیا ہے۔  وکلاء کا ایک دھڑا اختلاف کرتا ہے لیکن وہ میرے بھائی ہیں۔ جج صاحبان کی جاسوسی کبھی ہوئی نہ ہونے دیں گے۔ جب تک میں ہوں ایسا ممکن نہیں ہو گا۔

وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ سابق اٹارنی جنرل انور منصور کے معاملے پر جو کہنا تھا وہ کہہ چکا ہوں۔ پاکستان بار کونسل والے میرے بھائی ہیں۔ ہم ایک دوسرے سے الگ نہیں۔ وکلاء میں بھی دھڑے بازی ہے اور سیاسی گروپ موجود ہیں۔

فروغ نسیم نے کہا کہ خالد جاوید کی بطور نئے اٹارنی جنرل پاکستان تقرری پر اختلاف کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ خالد جاوید کی سمری بنا کر دی، جب ہی ان کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری ہوا۔

مزید پڑھیں: ’صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس فائز عیسی کی درخواست پہلے والا بنچ ہی سنے گا‘

خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے آج ہفتے کے روز خالد جاوید خان کو اٹارنی جنرل پاکستان تعینات کر دیا ہے۔

صدرمملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون نے نوٹیفکیشن جاری کیا اور اب اٹارنی جنرل کو وفاقی وزیر کے مساوی درجہ حاصل ہوگا۔

نئے اٹارنی جنرل پاکستان 2018 میں ملک میں عام انتخابات سے قبل نگراں دور حکومت میں بھی اٹارنی جنرل کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں جبکہ اس سے قبل وہ سنہ 2013 میں سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل بھی رہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز