سوشل میڈیامجوزہ قوانین، حکومت کو جواب جمع کرانے کا حکم

معمولی سزا کے قیدیوں کو رہا کرنے کا حکم

فائل فوٹو

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سوشل میڈیا مجوزہ قوانین کے متعلق وفاقی حکومت سے جواب طلب کر لیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کیس کی سماعت کی اور درخواست گزار کے وکیل جہانگیر خان جدون عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ حکومت سوشل میڈیا کو کنٹرول کرکے آزادی اظہار رائے کو سلب کرنا چاہتی ہے اور حکومت کا یہ اقدام آئین سے متصادم ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ پوری دنیا میں ریگولیشنز ہوتی ہیں۔ جہانگیر خان جدون نے دلیل دی کہ پاکستان میں حکومت ریگولیشنز کے نام پر سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنا چاہتی ہے۔

جج نے استفسار کیا کہ کیا حکومت نے کہا نہیں کہ ابھی یہ رولز ابھی معطل ہیں جس پر درخواستگزار کے وکیل نے کہا کہ حکومت نے ایسا کچھ نہیں کہا رولز 2020 آن فیلڈ ہیں۔

درخواستگزار نے بتایا کہ سوشل میڈیا رولز 2020 پر عمل درآمد کے لئے نیشنل کوارڈینیٹر بھی تعینات کیا جارہا ہے اور اس کو اختیارات اتھارٹی سے بھی زیادہ دے دیئے گئے ہیں۔

وکیل جہانگیر خان جدون نے بتایا کہ رولز 2020 کے تحت نیشنل کوارڈینیٹر 50 کروڑ تک جرمانہ کرسکے گا جب کہ کوارڈینیٹر کیسے تعینات ہو گا اور اس کی تعلیم کیا ہو گی،کچھ پتہ نہیں۔

عدالت نے استدعا کی گئی کہ حکومت کو نوٹس کرکے پوچھ لیا جائے کہ رولز کا کیا اسٹیٹس ہے اور سوشل میڈیا رولز 2020 آئین کے آرٹیکل 19 اور 19 اے سے متصادم ہے۔

عدالت نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر فریقین 14 روز میں جواب جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز