میں استعفیٰ نہیں دوں گا، وزیرقانون فروغ نسیم

فوٹو: فائل

اسلام آباد: وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا ہے کہ وہ اپنے منصب سے استعفیٰ نہیں دیں گے اور نہ ان کو نئے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کے تعیناتی پر بھی کوئی تحفظات نہیں۔

فروغ نسیم جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیخلاف ریفرنس میں پیش ہونے کیلئے سپریم کورٹ پہنچےتو ذرائع ابلاغ  کے نمائندوں نے ان سے سوال و جواب کیے۔

فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ اٹارنی جنرل خالد جاوید سے بھائیوں والا تعلق ہے، میرے والد کا خالد جاوید کے والد کے ساتھ پرانا تعلق ہے۔ صحافی نے سوال کیا کہ پاکستان بار کونسل  کے مطالبے پر استعفی دیں گے یا نہیں؟

یہ بھی پڑھیں: فروغ نسیم کو عہدے سے فوری ہٹانے کا مطالبہ

وزیرقانون نے کہا کہ وہ مستعفی نہیں ہو رہے۔ سابق اٹارنی جنرل انور منصور کے متعلق فروغ نسیم نے کہا کہ ٹی وی چینلز پر الفاظ کے چناؤ میں غلطی ہوئی۔ میں ان سے معذرت خواہ ہوں اور اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں۔

خیال رہے کہ پاکستان بار کونسل الزام لگایا ہے کہ فروغ نسیم عدلیہ کو بدنام کرنے کے ماسٹر مائنڈ ہیں اورانہیں فوراََ ہٹایا جائے

بار کونسل نے پنے اعلامیہ میں کہا کہ فروغ نسیم نے ہمیشہ غیر جہوری قوتوں کیلئے کام کیا اور اب مزید تاخیر کئے بغیر انہیں وفاقی کابینہ سے فوری الگ کیا جائے۔

پاکستان بار کونسل نے فروغ نسیم کے غیر جمہوری اقدمات کی تحقیقات کیلئے اعلیٰ سطح کا جوڈیشل کمیشن بنانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز