کراچی: مزار قائد سے حراست میں لیے گئے چھ ٹک ٹاک اسٹارز رہا

کراچی: مزار قائد سے حراست میں لیے گئے چھ ٹک ٹاک اسٹارز رہا

کراچی: مزار قائد اعظم محمد علی جناح سے حراست میں لیے گئے ٹک ٹاک اسٹارز کو ضمانتوں پہ رہا کردیا گیا۔ زیر حراست چھ ملزمان کو شخصی ضمانتوں پہ رہائی ملی ہے۔

حریم شاہ ، صندل خٹک کو وفاقی وزراء کی ویڈیوز اپ لوڈ کرنا مہنگا پڑگیا

ہم نیوز کو اس ضمن میں پولیس کے ذمہ دار ذرائع نے بتایا ہے کہ نوجوانوں کو اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ وہ آئندہ پھر کبھی مزار قائد اعظم پہ ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے کی کوشش نہیں کریں گے۔

پولیس کے ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ مزار کی انتظامیہ نے زیر حراست افراد کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لیے پولیس سے رجوع بھی نہیں کیا تھا۔

ہم نیوز کو ذرائع نے بتایا تھا کہ مزار قائد اعظم سے ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے والے چھ افراد کو پولیس نے حراست میں لے لیا تھا لیکن مسئلہ یہ بھی درپیش تھا کہ گرفتار افراد کے خلاف کارروائی کیسے کی جائے؟

پولیس کو ذرائع نے بتایا تھا کہ حراست میں لیے جانے والے ٹک ٹاک اسٹارز کے موبائل فونز سے کوئی بھی قابل اعتراض ویڈیو یا فوٹو نہیں ملی تھی۔

ٹک ٹاک پاکستان کی مقبول ترین ایپ

ہم نیوز کے رابطہ کرنے پر تھانہ بریگیڈ پولیس نے اپنا مؤقف بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے پر کسی بھی دفعہ کا اطلاق نہیں ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں پولیس کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل قابل اعتراض مواد پر کارروائی کرنے کا مجاز ہے۔

ذمہ دار ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ مزار قائد کی انتظامیہ احاطے میں ٹک ٹاک اسٹارز کی نقل وحرکت روکنے کے لیے ضرور متحرک ہوئی ہے۔ ذرائع کا دعویٰ تھا کہ مزار انتظامیہ نے اس ضمن میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو باقاعدہ خط لکھ کر کارروائی کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

ہم نیوز سے بات چیت میں ذمہ دار ذرائع کا کہنا تھا کہ مزار قائد اعظم کا تقدس پامال کرنے پر مزار قائد پروٹیکشن اینڈ مینٹی ننس ایکٹ کے تحت کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

ماہرین قانون کے مطابق مزار قائد پروٹیکشن اینڈ مینٹی ننس ایکٹ کی خلاف ورزی پر تین سال قید یا جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔

ٹک ٹاک پر پابندی کے متعلق حکومت سے جواب طلب

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ تھانہ بریگیڈ نے چھ افراد کو ویڈیو بنانے کے الزام میں کئی گھنٹے تک حراست میں رکھنے کے بعد شخصی ضمانتوں پر رہا کیا لیکن اس عرصے میں مزار قائد کی انتظامیہ نے پولیس سے رجوع نہیں کیا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز