پاکستان کا امریکہ-بھارت دفاعی معاہدے پر خدشات کا اظہار

اسلام آباد:  پاکستان نے حالیہ دنوں امریکہ اور بھارت کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدے پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔

ترجمان دفترخارجہ عائشہ فاروقی نے وزارت خارجہ میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ امریکہ اور بھارت کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدے سے خطے میں طاقت کا توازن بگڑے گا۔

ترجمان نے امریکہ اور بھارت کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ  پاکستان بھارت کی ریاستی دہشت گردی سے متاثر رہا ہے۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو اس کی ایک بڑی مثال ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کا دورہ بھارت: ’پاکستان سے بہت اچھے تعلقات ہیں‘ 

ترجمان دفترخارجہ نے امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ کی جانب سے کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا  کہ کشمیر کی صورتحال پر عالمی برادری آگاہ ہو چکی ہے۔ صدر ٹرمپ نے بھارت کے دورے کے دوران پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف اقدامات کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن کو 207 دن ہو چکے ہیں۔ گزشتہ ایک ہفتے میں مزید تین کشمیریوں کو شہید کیا گیا ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں جاری جرائم اور مظالم کو دنیا سے مزید نہیں چھپا سکتا۔ ہر کشمیری بنیادی حقوق سے محروم ہے۔

عائشہ فاروقی نے کہا کہ بھارتی دارالحکومت نئی دلی میں ہجوم کی طرف سے مسجدوں، املاک اور گھروں کو نقصان پہنچانے کی اطلاعات ملی ہیں۔ وہاں کی صورتحال پر پاکستان اور عالمی برادری کو تشویش ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اور مذہبی آزادی کی تنظیموں نے دہلی میں مسلمانوں پر ہونے والے تشدد پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف کارروائیوں سے دنیا آگاہ ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ شہری آبادی کو بھاری اسلحہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پاکستان نے گزشتہ روز بھارتی سفارتکار کو طلب کر کے شہری آبادی کو نشانہ بنانے کی مذمت کی ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ 27 فروری کو پاک فوج نے بھارتی طیارے گرائے تھے۔ ہمیں اپنی افواج پر فخر ہے۔ ایک سال قبل پاکستان نے بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا۔ افواج پاکستان نے جنگی تربیت اور پیشہ وارانہ صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں تصدیق کی کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے میں پاکستان کی نمائندگی وزیر خارجہ  شاہ محمود قریشی کریں گے۔

مزید پڑھیں: دہلی فسادات میں 34 افراد ہلاک، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا اظہار تشویش

انہوں نے کہا کہ ۔پاکستان نے افغانستان میں امن کیلئے سہولت کاری کی ہے، امید ہے امریکہ طالبان معاہدے سے افغانوں کے درمیان بات چیت شروع ہو گی۔ پاکستان کا افغان کی تعمیر نو میں اہم کردار ہے۔ 29 فروری کو دوحہ میں افغان طالبان اور امریکہ کا امن معاہدہ ہوگا۔ امید ہے اس سے خطے میں استحکام آئے گا۔

پریس بریفنگ میں کورونا وائرس کا تذکرہ کرتے ہوئے عائشہ فاروقی نے بتایا کہ اس خطرے سے نمٹنے کیلئے وفاقی اورصوبائی حکومتیں متحرک ہیں۔

ایران کی حکومت سے رابطوں کی تصدیق  کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تہران میں پاکستانی سفارتخانہ متحرک اور ہاٹ لائن نمبرمختص کر دیے گئے ہیں۔ وزارت صحت کورونا وائرس کے معاملے پر بہت متحرک ہے۔ چین نے بھی مسئلے سے نمٹنے کیلئے بہتر اقدامات کیے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے کہا کہ چینی صدر جلد پاکستان کا دورہ کریں گے۔ وزیراعظم عمران خان قطر کا دورہ کرنے گئے ہیں۔ پاکستان اور قطر میں برادرانہ تعلقات ہیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف تشدد اور عدم برداشت کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔ عالمی برادری دہلی میں ہونے والے ظلم کی مذمت کر رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز