مجوزہ سوشل میڈیا قوانین، مشاورت کے لیے کمیٹی قائم

سوشل میڈیا کا استعمال دو دن کیلیے ترک کرنے کی اپیل

فائل فوٹو

اسلام آباد: سوشل میڈیا سے متعلق مجوزہ قوانین پر مشاورت کے لیے وفاقی حکومت نے کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

اعلامیہ کے مطابق چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) عامر عظیم باجوہ کمیٹی کے چیئرمین مقرر کردیے گئے ہیں۔

اعلامیہ کے مطابق کمیٹی سول سوسائٹی اور ٹیکنالوجی کی کمپنیوں سے قوانین پرمشاورت کرے گی۔ سوشل میڈیا قوانین پر مشاورت کا عمل 2 ماہ میں مکمل کیا جائے گا۔

سوشل میڈیا سے متعلق مشاورتی کمیٹی کے ارکان میں وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری، بیرسٹرعلی ظفر،ڈاکٹر ارسلان خالد اور ایڈیشنل سیکرٹری وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان بار کونسل: سوشل میڈیا قوانین مسترد، وکلا نے مزاحمت کا اعلان کردیا

خیال رہے کہ اس سے قبل وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ سوشل میڈیا قوانین کا مقصد مثبت اظہار رائے یا سیاسی اختلافات کو دبانا نہیں ہے۔

18 فروری کو سوشل میڈیا کے مجوزہ قوانین پر نظرثانی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے عمران خان نے مجوزہ قوانین پر عملدرآمد سے قبل اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے کی ہدایت کر دی تھی۔

اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ قانون لانے کا بنیادی مقصد صرف اور صرف شہریوں کا تحفظ کرنا ہے اور یہ قانون بچوں، اقلیتوں، مذہبی معاملات سمیت قومی سلامتی کے تحفظ کے پیش نظر بنایا جا رہا ہے۔

عمران خان نے ہدایت کی تھی کہ اسٹیک ہولڈرز کی دی گئی تجاویز کو مجوزہ قانون میں شامل کیا جائے اور قانون کا مقصد مثبت اظہار رائے یا سیاسی اختلاف کو دبانا نہیں ہے۔

مزید پڑھیں: سوشل میڈیا سے متعلق مجوزہ قوانین عدالت میں چیلنج

واضح رہے کہ حکومت کے بنائے گئے سوشل میڈیا قوانین کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور بغیر بحث کے لاگو کیے جانے کے خلاف مختلف مکتبہ فکر کے افراد کی جانب سے آوازیں بھی اٹھ رہی ہیں۔

وفاقی حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے بنائے گئے قوانین کی کابینہ نے بھی منظوری دی ہے۔ جس کے مطابق نئے قوانین کے تحت سماجی رابطوں کے تمام عالمی میڈیا کمپنیوں کی تین ماہ میں پاکستان کے اندر رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز