کورونا وائرس: ملازمین بغلگیر ہوں، نہ ہاتھ ملائیں، پشاور ہائی کورٹ

فائل فوٹو

پشاور ہائی کورٹ نے عدالتی عملے کو کورونا وائرس سے بچانے کے لیے 9 نکاتی ہدایت نامہ جاری کردیا۔

رجسٹرار دفتر سے جاری اعلامیہ کے مطابق ملازمین کو روایتی طریقوں سے بغلگیر ہونے اور ہاتھ نہ ملانے کی ہدایت جاری کردی۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس، پاک افغان سرحد آج سے بند رکھنے کا فیصلہ

ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں میں کام کرنے والے عملے کو بخار یا کھانسی کی شکایت پر ماسک پہننے، بائیومیٹرک حاضری نہ لگانے، روزانہ کی بنیاد پر ماسک بدلنے جبکہ باتھ رومز میں تولیے کی جگہ ٹشوپیر کا استعمال کرنے کی ہدایت جاری کردی۔

انتظامیہ کی جانب سے ہدایت نامہ ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں کے داخلی راستوں پر بھی چسپاں کردیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ کورونا وائرس نے پوری دنیا بالخصوص چین کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جس کے باعث اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد تین ہزار 53 ہو گئی جب کہ 88 ہزار متاثر ہیں۔

یہ بھی جانیں: کورونا وائرس کیا ہے اور اس سے کیسے بچیں؟

جنوبی کوریا میں خطرناک وائرس کے مزید 500 کیسز رجسٹرڈ ہوئے جس کے بعد مجموعی تعداد 4 ہزار 2012 ہو گئی ہے جب کہ 22 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ایران میں وائرس سے 11 مزید ہلاکتوں کے بعد تعداد 54 تک پہنچ گئی۔ فرانس میں 130 متاثر جبکہ جبکہ پورے برطانیہ میں 1 ہزار 694 کیس رجسٹر ہوئے ہیں۔

امریکی ریاست واشنگٹن میں کورونا سے مرنے والوں کی تعداد 2 ہو گئی جب کہ نیویارک میں بھی مہلک وائرس کا ایک کیس سامنے آیا ہے۔

پاکستان نے ایران اور افغانستان کے ساتھ اپنی سرحد بند کر رکھی ہے اور ملک کے اندر بھی کورونا کے متعلق ہنگامی صورتحال نافذ کی گئی ہے۔

کورونا وائرس کیا ہے؟

کورونا وائرس کو سارس وائرس کا کزن بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ان دونوں میں کئی خصوصیات مشترک ہیں۔ چینی سائنسدان لیو پون کا خیال ہے کہ اس کا آغاز بھی جانوروں سے ہوا اور بعد میں یہ انسانوں میں منتقل ہو گیا۔

کورونا وائرس دراصل ایک بڑا گروپ ہے جو عموماً جانوروں میں پایا جاتا ہے، ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ یہ جانوروں سے انسانوں کو منتقل ہو جائے۔

کورونا وائرس کی علامات

اس سے متاثرہ افراد میں آغاز میں زکام جیسی علامات ظاہر ہوتی ہے، ناک کا بہنا، کھانسی، گلے کی تکلیف، عموماً سردرد اور بعض اوقات بخار شروع ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس کی تشخیص کے بعد حکومت کے سخت اقدامات

ایسے افراد (بڑی عمر کے یا بہت چھوٹی عمر کے بچے) جن کے جسم کا مدافعاتی نظام کمزور ہوتا ہے ان کے لیے نمونیا یا برونکائیٹس میں مبتلا ہونے کا امکان ہوتا ہے۔

وائرس کی وبا کی حالیہ تاریخ

مڈل ایسٹ ریسپی ریٹری سنڈروم (مرس) 2012 میں مشرق وسطیٰ میں شروع ہوا۔ غالب امکان ہے کہ یہ اونٹوں سے انسانوں میں منتقل ہوا۔ اس سے متاثر ہونے والے ہر 10 افراد میں سے تین سے چار جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس: سعودی عرب نے پاکستانی عمرہ زائرین پر پابندی لگا دی

سیویر اکیوٹ ریسپی ریٹری سنڈروم (سارس) کا آغاز چین کے صوبے گینگ ڈون سے ہوا۔ ہلاکتوں کی شرح عمر کے مطابق صفر سے پچاس فیصد تھی۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ خاص قسم کی بلیوں سے انسانوں میں پھیلا۔

کورونا وائرس کیسے پھیلتا ہے؟

ایک فرد سے دوسرے فرد میں وائرس کی منتقلی کے کئی راستے ہیں جن میں کھانسی، چھینک، ہاتھ ملانا شامل ہیں۔ اگر متاثرہ شخص نے کس چیز کو چھوا ہو اور اسے دوسرا فرد چھو کر اپنے منہ، ناک یا آنکھوں کو لگائے تو اس صورت میں بھی وائرس کے پھیلنے کا امکان ہوتا ہے۔

کورونا وائرس کا علاج

اس کا کوئی خاص علاج نہیں ہے۔ بہت بار علامات خود بخود ختم ہو جاتی ہیں۔ درد یا بخار پر قابو پانے کے لیے ڈاکٹر ادویات دے سکتے ہیں۔ گرم پانی سے نہانا بھی دکھتے ہوئے گلے یا کھانسی کو دور کر سکتا ہے۔

اس سے متاثرہ افراد کو زیادہ سے زیادہ پانی اور جوسز پینے چاہئیں، آرام کرنا لازم ہے اور بھرپور نیند ضروری ہے۔

کورونا وائرس سے بچاؤ

اس وائرس کی کوئی ویکسین موجود نہیں ہے۔ متاثرہ افراد سے دور رہنا چاہیئے۔ اپنی آنکھوں، ناک اور منہ کو چھونے سے پرہیز کرنا چاہیئے۔ اپنے ہاتھوں کو صابن سے کم از کم بیس سیکنڈ پر دھوئیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز