کورونا وائرس، پولیو ورکرز کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ

اسلام آباد: حکومت نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ئنی حکمت عملی تیار کرلی ہے، جس کے تحت عوام میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے پولیو ٹیمز کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔

نیشنل ایمرجنسی آپریشن سنٹر کی جانب سے جاری مراسلہ کے مطابق کورونا وائرس کی کمیونٹی کی سطح پر آگاہی اور نشاندہی کے لیے پولیو سرویلنس ٹیمز کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

جاری مراسلہ کے مطابق کورونا وائرس  سے متعلق آگاہی کے لیے چاروں صوبوں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے پولیو ورکرز بھی اپنی خدمات دے گے۔

جاری مراسلہ کے مطابق پولیو ایمرجنسی سنٹر کے ووکرز کورونا سے متعلق آگاہی اور کسیز کی بروقت نشاندہی کے لیے معاون ثابت ہوں گے۔

نیشنل ایمرجنسی آپریشن سنٹر کی جانب سے جاری مراسلہ کے مطابق  پولیو ورکرز کو کورونا سرویلنس ۔کے حوالےسے باقاعدہ ٹریننگ کروائی جائے گی۔

مزید پڑھیں:کورونا وائرس: ملازمین بغلگیر ہوں، نہ ہاتھ ملائیں، پشاور ہائی کورٹ

واضع رہے کہ اس سے قبل حکومت نے کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے پاک افغان سرحد کو آج سے بند رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

کسٹم حکام کے مطابق کورونا وائرس کے باعث ایک ہفتے کے لیے پاک افغان سرحد باب دوستی سے ہر قسم کی آمدورفت معطل رکھنے کا فیصلہ وزارت داخلہ اور وزارت تجارت نے مشترکہ طور پر کیا ہے۔

کسٹم حکام نے تمام تاجر، گڈز ٹرانسپورٹرز، مال بردار گاڑیاں کسٹم ہاؤس اور دیگر یارڈ منتقل کرنے کی ہدایت کر دی۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے باب دوستی پر ویزا پاسپورٹ پر بھی آمدورفت معطل رکھنے کا اعلان کر دیا جبکہ دوطرفہ پیدل آمدورفت اور تجارتی سرگرمیاں بھی معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

محکمہ صحت کے مطابق باب دوستی کی بندش کے بعد پاک افغان سرحد پر اسکریننگ بھی ایک ہفتے کے لیے بند رہے گی تاہم اسکریننگ ٹیمیں باب دوستی پر بدستور موجود ہوں گی۔

پاک افغان سرحد پر کورونا وائرس کی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے محکمہ صحت نے کہا کہ پاک افغان سرحد پر اب تک کورونا وائرس کا کوئی مریض نہیں پایا گیا ہے تاہم باب دوستی کی 7 دن کے لیے بندش کورونا وائرس کی افغانستان سے آمد روکنے کی کے لیے کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں عمرے کی ادائیگی کیلئے داخلے پر پابندی عائد کی جارہی ہے، سعودی وزارت خارجہ

کورونا وائرس کی روک تھام کے سلسلے میں باب دوستی پر افغانستان سے آنے والے شہریوں کی اسکریننگ پانچویں روز بھی جاری رہی۔ اب تک 10 ہزار سے زائد افراد کی اسکریننگ کی جاچکی مگر کوئی مشتبہ مریض سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز