رانا ثناءاللہ نے نیب تحقیقات کو عدالت میں چیلنج کر دیا

سلیکٹڈ حکومت سے چھٹکارہ حاصل کرنا ہے، رانا ثنااللہ

فائل فوٹو

لاہور: مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی اور سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثناءاللہ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی تحقیقات کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا۔

ہم نیوز کے مطابق دائر درخواست میں چیئرمین نیب اور ڈی جی نیب سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا یے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ قومی احتساب بیورو کی جانب سے تحقیقات کے لیے انہیں خلاف قانون طلب کیا گیا یے۔

رانا ثناءاللہ کا کہنا ہے کہ انسداد منشیات اور قومی احتساب بیورو دونوں ادارے وفاق کے زیر سایہ ہیں۔

مزید پڑھیں: رانا ثنا اللہ کی درخواست ضمانت منظور

ان کے مطابق نیب ان اثاثوں کی تحقیقات کر رہا ہے جو اے این ایف عدالت نے منجمد کر رکھے ہیں، ایک وقت میں دونوں وفاقی ادارے کیسے تحقیقات کر سکتے ہیں؟

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ انسداد منشیات عدالت نے اثاثے منجمد کرنے کا حکم دے رکھا ہے تفصیلات کیسے اکٹھی کریں۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ نیب نے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کر کے شامل تفتیش کیا ہے۔

انہوں نے درخواست میں استدعا کیا ہے کہ عدالت نیب کے جانب سے طلبی کال اپ نوٹسز کو کالعدم قرار دے۔

یہ بھی جانیں: انسداد منشیات فورس نے رانا ثناءاللہ کو گرفتار کر لیا

اے این ایف نے رانا ثناءاللہ کو گزشتہ سال یکم جولائی کو منشیات اسمگلنگ کیس میں گرفتار کیا تھا۔

رانا ثنااللہ فیصل آباد سے پارٹی اجلاس شریک ہونے کے لیے لاہور آرہے تھے کہ انہیں تحویل میں لے لیا گیا۔

اے این ایف حکام کے مطابق رانا ثنا اللہ کی گاڑی سے منشیات کی بھاری مقدار برآمد ہوئی۔

دسمبر 2019 میں لاہور ہائی کورٹ نے کیس میں مسلم لیگ ن کے رہنما کی درخواست ضمانت منظور کی تھی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز