اسٹیٹ بینک مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس 17 مارچ کو ہو گا

بیرونی سرمایہ کاری میں 68.3 فیصد اضافہ

فائل فوٹو

اسلام آباد: اسٹیٹ بینک مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس 17 مارچ کو منعقد ہو گا۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق مانیٹری پالیسی اجلاس میں آئندہ دو ماہ کے لیے شرح سود کا وضع ہو گا۔

مانیٹری پالیسی کمیٹی اجلاس کا فیصلہ پریس ریلز کے ذریعے جاری ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں پاکستان عالمی سرمایہ کاروں کی دلچسپی کا مرکز بن رہا ہے، جے پی مورگن

یاد رہے گزشتہ ماہ  گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے آئندہ دو ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان کیا تھا۔

گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی شرح سود کو 13 اعشاریہ 25 فیصد پر برقرار رکھا گیا ہے تاہم مہنگائی کی شرح 11 سے 12 فیصد ہے۔ اس لیے پالیسی ریٹ کو مستحکم رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مہنگائی بڑھنے کی وجہ طلب اور رسد بنی ہے تاہم کھانے پینے کی اشیا کی کمی بھی مہنگائی کی وجہ بنی ہے۔ رسد کے معاملات خراب ہونے سے بھی مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ معاشی صورتحال میں زراعت پیداوار اس سال بھی متاثر ہوسکتی ہے لیکن دوسرے سیکٹر سیمنٹ، الیکڑک سیکٹر میں سیل اور پراڈکشن بڑھ رہی ہے۔ سب سے اچھے سیکٹر ایکسپورٹ اور اس کے دیگر سیکٹر پرفارم کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ برآمدگی سیکٹر کے لیے اسپیشل پیکیج دیے جا رہے ہیں، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھتے ہیں تو یہ اچھی بات ہے اس لیے مشینری درآمد اور کاروباری صلاحیت بڑھانے کے لیے حجم 200 ارب تک بڑھا دیا گیا ہے۔

رضا باقر نے کہا کہ لانگ ٹرم فنانسنگ تمام شعبوں کی ایکسپورٹ کے لیے نافذ ہے اور اگر کوئی نئی چیز برآمد کرنی ہے تو اسکے لیے بھی اسکیم نافذ العمل ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی وجہ سے قوت خرید کم ہو رہی ہے لیکن حالات بہتر ہو جائیں گے۔ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کی تمام شرائط پر پاکستان کام کر رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز