سندھ میں دوبارہ مردم شماری قومی نوعیت کامسئلہ نہیں، سپریم کورٹ

فوجی عدالتوں سے سزایافتہ196مجرموں کی رہائی کا حکم معطل

فائل فوٹو

اسلام آباد: سندھ میں دوبارہ مردم شماری کی درخواست پر سماعت غیرمعینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی ہے۔

جسٹس مشیر عالم اور جسٹس یحییٰ آفریدی نے سوموار کے روز معاملے کی سماعت کی اور درخواستگزار متحدہ قومی موومنٹ کی طرف سے وکیل پیش ہوا۔

جسٹس یحییٰ خان آ فریدی نے استفسار کیا کہ کیا کیس میں اٹھائے جانے والے نکات ابھی ہیں۔ وکیل نے بتایا کہ کراچی کے کچھ علاقوں میں ووٹرز زیادہ ہیں اور مردم شماری میں آ بادی کم ہے۔ ایم کیو ایم نے کیس میں ترمیم کی درخواست بھی دے رکھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی: ایم کیو ایم نے ایک مرتبہ پھر مردم شماری پر سوالات اٹھادیے

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ رجسٹرار اعتراضات ختم ہقنے کے بعد ہیں ترمیم ہو سکے گی۔ جسٹس مشیر عالم نے استفسار کیا کہ ایک صوبے کا ایشو ہے اور اس کیلئے ہائیکورٹ سے رجوع کیوں نہیں کیا گیا۔

جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ درخواست میں اٹھایا جانے والا مسئلہ قومی نوعیت کا نہیں۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ بہتر ہے کہ اپنے موکل سے ہدایات لے لیں۔

ایم کیو ایم کے وکیل نے کیس میں ہدایات لینے کیلئے مہلت طلب کی جس پر نے عدالت نے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ ایم کیو ایم کا مؤقف ہے کہ کراچی میں آبادی کے اعداد و شمار میں دھاندلی کی گئی اور شہر کی آبادی کو کم دکھاکر ان کی نمائندگی کو کم کیا گیا۔ ایم کیو ایم کا مؤقف ہے کہ مردم شماری کے ادارے نے خاص منصوبہ بندی کے ذریعے دھاندلی کی ہے۔

پاکستان میں چھٹی مردم شماری 2017 میں کروائی گئی تھی جس کےمطابق کل آبادی 20 کروڑ 77 لاکھ 74 ہزار پانچ سو بیس افراد پر مشتمل تھی۔

اعدادوشمار کے مطابق  آبادی کے لحاظ سے دوسرا بڑا صوبہ سندھ ہے جو پونے پانچ کروڑ سے زائد نفوس پر مشتمل ہے۔ یہاں دو کروڑ 49 لاکھ مرد، جبکہ دو کروڑ 29 لاکھ خواتین بستی ہیں۔

صوبہ کی تمام سیاسی جماعتوں نے سندھ میں ہونے والی مردم شماری کے اعدادوشمار پر تحفظات کرتے ہوئے اسے رد کیا اور دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا تھا۔

متعلقہ خبریں