عام دستیاب پریمئیم واٹر اور وائٹنگ کریمیں تباہ کن، پی سی ایس آئی آر

عام دستیاب پریمئیم واٹر اور وائٹنگ کریمیں تباہ کن، پی سی ایس آئی آر | humnews.pk

اسلام آباد: پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) کے ماہرین نے صارفین کو اشیائے ضرورت میں ملاوٹ اور اس کے سنگین نتائج کے متعلق خبردار کیا ہے۔

چئیرمین پی سی ایس آئی آر کے مطابق کھانے پینے کی اشیاء میں ایسی چیزوں کی ملاوٹ کی جاتی ہے جو کینسر سمیت بہت سی بیماریوں کو جنم دیتی ہیں۔ لوگوں کو اپنا اور اپنے بچوں کا خیال رکھنا چاہئے۔ پانی، دودھ ، کینڈیز، اجناس حتیٰ کہ میک اپ کی اشیاء خریدتے وقت بہت محتاط رہنا چاہئے۔

پرنسپل سائنٹیفک آفیسر ڈاکٹر محمد ندیم کے مطابق بازار میں ملنے والےمنرل یا پریمئیم پانی کی بہت سے مصنوعات میں مائیکرو بیالوجیکل کا مسئلہ سامنے آیا ہے۔ انہوں نے تجویز کیا کہ گھر میں پانی ابال کر پینا سب سے بہترین ہے۔

پرنسپل سائنٹیفک آفیسر حفصہ اختر نے بتایا کہ رنگ سفید کرنے والی وائٹننگ کریموں میں مرکری شامل کیا جانا قابل تشویش ہے۔ کریموں میں .005ppm (پارٹس فی ملین) مرکری استعمال کیا جاسکتا ہے مگر بعض کریموں میں 3500ppm مرکری پایا جاتا ہے۔ وائٹننگ کریموں میں مرکری کے اتنے زیادہ استعمال سے جلد کا سرطان یا اسکن کینسر پھیل رہا ہے۔

سینئر سائنٹیفک آفیسر ڈاکٹر سلمان سعید نے کہا کہ دودھ میں قدرتی طور پر شامل جز ملک فیٹ اہم ہے۔ ملاوٹ شدہ دودھ سے ملک فیٹ نکال کر ویجیٹیل فیٹ، ڈٹرجنٹ، چینی، یوریا اور فارملین شامل کیا جاتا ہے۔ دودھ میں خاص سطح سے زیادہ یوریا ہو تو گردوں کو خراب کرتا ہے۔ فارملین نامی کیمیائی مادہ مردہ جسموں کو محفوظ رکھنے کیلئے استعمال کیا جاتاہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ چھوٹے بچوں کیلئے خشک دودھ میں میلامائن نہیں ہوناچاہئے یہ بچوں کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے۔

پرنسپل سائنٹفک آفیسر مسز علیم النساء نے کہا کہ کھانے پینے کی اشیاء میں مصنوعی رنگ استعمال کرنے کی شکایات بھی ہیں۔ معیاری کینڈیز یا ٹافیوں میں مضر صحت رنگ مقررہ مقدار میں ہوتا ہے مگر ان برانڈڈ یا عام دستیاب کینڈیز میں یہ بہت زیادہ مقدار میں پایا جاتا ہے۔ اس سے بچوں میں لڑائی جھگڑے کی عادت، تھائیراڈ کینسر، دمہ، جلدی امراض، ناک، گلے اور پیٹ کی بیماریاں، متلی، جلد کی الرجی اور گردوں کے امراض بڑھتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ چاول، دالوں اور مصالحہ جات میں بھی مصنوعی رنگ بہت زیادہ استعمال کیا جارہا ہے۔

پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) نامی ادارہ 1953 میں سوسائٹیز ایکٹ کے تحت قائم کیا گیا۔ 1973 کے بعد سے یہ ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے فعال ہے۔

چیئرمین پی سی ایس آئی آر ڈاکٹر شہزاد عالم کے مطابق ادارے کے پاس عمدہ انفرا اسٹرکچر موجود ہے۔ جہاں عام استعمال کی اشیاء سے لے کر ہائی ٹیک چیزوں تک کا معیار پرکھا جاتا ہے۔ کراچی،لاہور اور پشاور میں قائم بین الاقوامی معیار کی آئی ایس او 17025 لیبارٹریز میں ٹیسٹنگ کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔

سپریم کورٹ کے حکم پر پانی اور دودھ اسی ادارے نے ٹیسٹ کئے تھے۔ سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر کراچی کی لیبارٹری نے بھی خدمات فراہم کی تھیں۔

پی سی ایس آئی آر پاکستان میں کھانے پینے کی اشیاء سمیت انڈسٹری میں استعمال ہونے والی اشیاء کا معیار جانچ کر بتاتا ہے کہ ان میں ملاوٹ ہے یا یہ چیزیں خالص ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز