کورونا: سندھ میں لاک ڈاؤن کا آغاز ہو گیا

کراچی: دکانوں کے اوقات کار سے متعلق کمشنر کی وضاحت

کراچی: عالمی وبا قرار دیے جانے والے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے اپنائی جانے والی احتیاطی تدابیر کے طور پر حکومت سندھ کے اعلان کردہ لاک ڈاؤن کا آغاز ہوگیا ہے۔

کورونا: جی بی حکومت نے ڈاکٹر اسامہ ریاض کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ  نے صوبے میں 23 مارچ کی شب 12 بجے سے لاک ڈاؤن کرنے کا اعلان کیا تھا۔

ہم نیوز کے مطابق صوبہ سندھ میں شہری آئندہ 15 دن تک بلا ضرورت گھر سے باہر نہیں نکل سکیں گے۔ اس دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت علاج معالجہ کی غرض سے نکلنا ممکن ہوگا۔

حکومتی ہدایت کے تحت گھر سے نکلنے والے مریض کے ساتھ ایک تیمار دار کو جانے کی اجازت ہوگی۔ شہریوں کو دوا اور کھانے پینے کی اشیا خریدنے کی بھی آزادی دی گئی ہے۔

ہم نیوزکے مطابق محکمہ داخلہ سندھ کے تحت نماز جنازہ میں صرف انتہائی قریبی رشتہ دار شریک ہوں گے اور نماز جنازہ کی ادئیگی کے لیے متعلقہ ایس ایچ او کا پیشگی اجازت نامہ لینا لازمی ہوگا۔

پاکستان میں کورونا کے 214 نئے کیسز، ہلاکتوں کی تعداد پانچ ہوگئی

محکمہ داخلہ سندھ کے مطابق ضرورت کے تحت شہری کو گھر سے باہر اکیلے نکلنے کی اجازت ہوگی جب کہ مریض یا مال برداری کی صورت میں ایک اضافی شخص کو ساتھ رکھا جا سکے گا۔

شہر قائد میں کیے جانے والے لاک ڈاؤن کے پیش نظر اس وقت رینجرز کا فلیگ مارچ مختلف علاقوں میں جاری ہے۔

ہم نیوز کے مطابق اس وقت عملاً لوگوں کی بڑی تعداد احتیاطی تدابیر اختیار کررہی ہے لیکن وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا شکوہ ہے کہ عوام صورتحال کو سنجیدہ نہیں لے رہی ہے۔

عوام صورتحال کو سنجیدہ نہیں لے رہے، فردوس عاشق کا شکوہ

عملاً ماسک اور سنیٹائزرز کی مانگ میں ہونے والے اضافے نے منافع خوروں کو بھی سرگرم عمل کردیا ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز