کورونا وائرس: امریکی تاریخ کاسب سے بڑامعاشی پیکج منظور

کورونا وائرس

فائل فوٹو

امریکی سینیٹ نے کورونا وائرس کے تدارک کیلئے 2 ٹریلین ڈالر کے امدادی پیکیج کی منظوری دے دی ہے۔

پیکج کورونا وائرس وبائی امراض کے نتیجے میں جاری معاشی بدحالی کے بدترین اثرات کو ختم کرنے کے لئے بنایا گیا ہے۔

امریکہ میں اس وقت 68,489 ہزار سے زائد افراد کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں اور 1032 ہلاک ہیں۔ تین ریاستوں فلوریڈا، نیو یارک اور الی نوائے میں شہریوں کو گھروں میں رہنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔

تینوں ریاستوں میں غیر ضروری کاروبار بھی غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

امریکہ میں وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ برائے صحت نے کہا ہے کہ چین کے بعد امریکہ کورونا وائرس کا نیا مرکز بن سکتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی ترجمان مارگریٹ ہیرس نے کہا ہے کہ کورونا وائرس جس تیزی سے امریکہ میں پھیلا ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ  وائرس کا اگلا مرکز امریکہ ہوگا۔

چند امریکی ریاستوں اور سرکاری عہدیداروں نے ٹرمپ انتظامیہ کو کورونہ وائرس سے نمٹنے میں نااہلی پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ مرکزی حکومت کی نااہلی کی وجہ سے امریکی ریاستوں کو طبی سامان کے حصول میں مشکل آ رہی ہے۔

طبی سامان کی فراہمی کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی کوریا سے مدد مانگی ہے۔ کوریا کے صدر نے امریکہ کو ہر ممکن مدد کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے، بشرطیکہ کوریا کے پاس اضافی طبی سامان ہو۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز