ڈالر کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

کراچی: کاروباری ہفتے کے چوتھے روز انٹربینک میں ڈالر کی قیمت میں چار روپے 53 پیسے کا اضافہ ہوگیا جس کے بعد یہ ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

فاریکس ڈیلرز کے مطابق انٹر بینک میں ڈالر 161 روپے 60 پیسے سے بڑھ کر 166.13 روپے کی بلند سطح  پر بند ہوا ہے۔

ماہرین کے مطابق شرح سود میں کمی کے فیصلے کے بعد ڈالر کی خریداری کی جارہی ہے جس کے باعث عارضی طور پر اس کی قیمت میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

تین روز میں ڈالر 7.33 روپے مہنگا ہوا ہے۔

کرنسی ڈیلرز کے مطابق کاوربار بند ہونے کی وجہ سے اوپن مارکیٹ بند ہونے سے قیمت جاری نہیں ہوسکی۔

گزشتہ سال اگست میں انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت 164 روپے اور پانچ پیسے تھی جو اب تک کی بلند ترین سطح تھی۔

گزشتہ سال کے آغاز میں ڈالر کی قیمت مسلسل بڑھتی رہی، جنوری میں ڈالر 138 روپے 93 پیسے، فروری میں 138 روپے 90 پیسے اور مارچ میں 139 روپے10 پیسے تک پہنچ گیا۔

مزید پڑھیں: کورونا: امریکی ریاست کیلی فورنیا میں دس لاکھ افراد بیروزگار

اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگئی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا۔ مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا۔

جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164 روپے پر پہنچ گیا۔

جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا۔

اگست 2019 میں روپے نے ڈالر کا جم کر مقابلہ کیا اور ڈالر 157.20 روپے تک پہنچ گیا۔ ستمبر 2019 کے اختتام پر ڈالر کی قیمت میں مزید کمی واقع ہوئی اور یہ 156.40 روپے پر پہنچ گیا۔

اکتوبر 2019 کے اختتام پر روپے کی قدر مزید بہتر ہوئی اور ڈالر کی قیمت 155.70 روپے رہ گئی۔ نومبر2019 کے اختتام پر ڈالرکی قیمت خرید 155.25 اور قیمت فروخت 155.65 تھی۔ گزشتہ چھ ماہ سے ڈالر کی قیمت میں مسلسل کمی دیکھنے میں آرہی ہے اور اس دوران 9 روپے کی کمی آئی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز