ہیلتھ ورکرز مجاہد اور ذخیرہ اندوز ملک دشمن ہیں، اسد عمر

ملک کے 20 شہروں میں کورونا تیزی سے بڑھ رہا ہے، اسد عمر

فائل فوٹو

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمرنے ہیلتھ ورکرز کو مجاہد اور ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کو ملک و قوم کا دشمن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنا قومی ذمہ داری ہے۔

کورونا، ملک بھرمیں تعلیمی ادارے 31 مئی تک بند رکھنے کا اعلان

ہم نیوز کے مطابق میڈیا بریفنگ میں وفاقی وزیر نے کہا کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے قومی حکمت عملی کے تحت چل رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے پھیلاوَ کو روکنے کے لیے اقدامات اٹھائے گئے ہیں اور ان اقدامات کا مسلسل جائزہ بھی لے رہے ہیں۔

اسد عمر نے کہا کہ 13مارچ کو قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا جس میں فیصلے کیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان آئندہ نیشنل کوآرڈی نیشن کمیٹی کے اجلاس کی صدارت خود کریں گے۔

’آٹا، چینی بحران پیدا کرنے والوں کو نہیں چھوڑیں گے‘

میڈیا بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ بلاشبہ عالمی بحران کے پاکستان پر بھی اثرات آ رہے ہیں لیکن ہم ایک مربوظ حکمت عملی پرکام کررہے ہیں تاکہ کورونا کے اثرات کم سے کم ہوں۔

ہم نیوز کے مطابق انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا کے 182 ممالک میں کورونا وائرس پھیل چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں پہلے اسکریننگ اور پھر ٹیسٹنگ کا عمل شروع کیا گیا۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے دعویٰ کیا کہ اعداد وشمار کی بنیاد پر فیصلے کیے جا رہے ہیں  تاکہ  فیصلے غلط نہ ہوں۔ انہوں نےکہا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرنے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے۔

کوروناوائرس کے معاشی اثرات کا جائرہ لینے کیلئے پارلیمانی کمیٹی تشکیل

حکومتی پالیسیوں کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے معاشی پیکج کا اعلان کیا ہے اور ہم نے اس پر عمل درآمد کرانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام کام صوبوں کےساتھ مل کرہورہا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر اسد عمر نے ہیلتھ کیئر کے عملے ، ڈاکٹرز اور نرسز کورونا کے خلاف جنگ میں ہراول دستہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے تعلیمی ادارے 31 مئی تک بند رہیں گے۔

ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری کی روک تھام پر توجہ دی جائے، وزیر اعظم

ہم نیوز کے مطابق انہوں نے کہا کہ ملک میں آٹے کی کوئی قلت نہیں ہے اور 17 لاکھ ٹن آٹا اس وقت موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبوں کو ٹرانسپورٹیشن میں کیا مسائل ہیں؟ اس پر کل صبح غور ہوگا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز